اقبال ترقی پسندوں کے حضور۔۔۔ تاریخی مغالطے اور حقیقت پہلا حصہ،،، از رفیع رضا

اقبال اکیڈمی نے حکومت کی منشا اور ارادے کے تحت اقبال کی زندگی ، حالاتِ زندگی ، شاعری اور نثری بیانات و تقاریر کی روشنی میں سر محمد اقبال (علامہ اقبال) کی کُل شخصیت کے خدوخال ایسے بنائے یا بنانے کے لئے معاون معلومات و واقعات و تحاریر کو پیش کیا جن کے ذریعے سر اقبال ایک نہایت متقی،مومن، بزرگ،دانشمند، فلسفی، شاعر، ادیب،انقلابی اور جینیوئن ھیرو ثابت ھوسکیں

سلسلہ ڈاٹ کام۔۔۔ حقیقت کی روشنی کا سلسلہ

سلسلہ ڈاٹ کام کا بنیادی مقصد ادب اور شاعری کے ذریعے روشن خیالی اور علم کی ترویج ہے۔ اسکے علاوہ مشعال خان لائبریری کے ذریعے اہم ترین کتابوں کو ڈیجیٹل شکل میں قارئین تک مفت فراہم کرنا ہے تاکہ ترقی یافتہ سوچ کو معاشرے میں پروان چڑھایا جا سکے۔ اس ویب سائیٹ اور اسکے تمام …مزید پڑھیں

رفیع رضا کی شاعری

بھاویں مسجد جا کے، بھاویں ‘کلا کر

بھاویں مسجد جا کے، بھاویں ‘کلا کر۔ ‘نور محمدا’ ہن توں اﷲ اﷲ کر۔ من چوں ملبہ کڈھ کے سٹّ برائی دا، لین لئی ناں ربّ دا صاف مسلا کر۔ پے نہ جاوے جھلنی آخر نوں فٹکار، بہتا نہ بیتھوہا کم کولاّ کر۔ جے یگاں تکّ رکھنے جگّ تے جیوندا ناں، چنگے کم نوں کہہ …مزید پڑھیں

الف لیلہ و لیلہ

غیب کی باتیں تو خدا بہتر جانتا ہے، لیکن پرانے قصے کہانیوں میں یوں بیان کیا جاتا ہے کہ اگلے زمانے میں بنی ساساں کا ایک بادشاہ تھا۔ اس کی حکومت جزائر ہند اور چین تک تھی اور اس کی فوجوں اور باج گزاروں اور شان و شوکت کی کوئی انتہا نہ تھی۔ اس کے …مزید پڑھیں

باغ و بہار

نہیں محتاج زیور کا جسے خوبی خدا نے دی کہ جیسے خوش نما لگتا ہے دیکھو چاند بِن گہنے خبر گیری میں ضیافت کے لگ رہی ہے اور تاکید ہر ایک کھانے کی کر رہی ہے کہ خبردار بامزہ ہو اور آب و نک بو باس درست رہے، اس محنت سے وہ گلاب سا بدن …مزید پڑھیں

طلسم ہوشربا محمد حسین جاہ​

لتماس مولف بسم اللہ الرحمن الرحیم حمد بیحد و ثنائے لا تعداد اس ساقی ازل کو سزا وار ہے کہ جس نے خراب آباد گیتی کو بصدائے مستانہ کن فیکون آریش دی اور نعت معہ تحفہ درود اس مست پیمانہ الست کی ہر جرعہ نوش جام خرد کو درکار ہے کہ جس نے سرمستان خمخانہ …مزید پڑھیں

تصوف اسلام

تصوّف لغوی بحث لفظ ”تصوف “اور” صوفی“ کی لغوی بحث میں ماہرین لسانیات و محققین کا ہر دور میں اختلاف رہا ہے چونکہ قر Èن و صحاح ستہ میںیہ لفظ موجود نہیں اور عربی زبان کی قدیم لغات میں اس لفظ کا وجود نہیں اس لیے ہر دور کے علماءاور محققین اس بارے میںمختلف Èراءاور …مزید پڑھیں

اسلامی اِنقلاب اور ادب

اظہار مافی الضمیر کو خوبصورت پیرایہ مل جائے تو اسے ادب کہتے ہیں۔ خواہ وہ نثر ہو یا نظم، کلام میں دل کی گہرائیوں میں سرایت کرجانے کی قوت ہو، الفاظ جچے تلے ہوں ، مفہوم واضح ہو ، تراکیب سبک اور رواں ہوں ، مضمون اچھوتا اور دلنشیں ہو ، جملوں کی بندش کا …مزید پڑھیں

اردو اور فارسی ادبیات کے لیے یکساں مفید فرہنگ

اردو اور فارسی ادبیات کے لیے یکساں مفید فرہنگ فرہنگ اصطلاحات علوم ادبی ، از ڈاکٹر عطش درانی​ مرکز تحقیقات فارسی ایران و پاکستان اسلام آباد کی طرف سے فرہنگ اصطلاحات علوم ادبی کی یہ اشاعت فارسی اور اردو حلقوں میں بیک وقت عمدہ اور خوشگوار ردعمل پیدا کرچکی ہے ۔ فارسی کے کلاسیکی ذخیرہ …مزید پڑھیں

توبۃ النصوح از ڈپٹی نذیر احمد دہلوی​

دیباچہ الٰہی، خلعت صفت پارچہ، خمسہ و عقل و روح سے سرفرازی دی ہے تو منصب ایمان داری بھی عطا کر کہ خطاب اشرف المخلوقات میری حالت کے مناسب ہو۔ خداوند اپنے حبیب کا امتی بنانے سے امتیاز بخشا ہے تو تقریب بھی نصیب کر کہ الطاف کریمانہ شفاعت اور عواطف خسروانہ رحمت کی مجھ …مزید پڑھیں

الکھ نگری از ممتاز مُفتی

رہ رہ کر مجھے یہ خیال آتا کہ میں ہندوستان چھوڑ کر پاکستان کیوں چلا آیا؟ حالانکہ بمبئی میں مجھے چار ایک کانٹریکٹ مل چکے تھے- زندگی میں پہلی بار ہزاروں روپے کمانے کی صورت پیدا ہوگئی تھی- اس کے باوجود میں بمبئی میں مطمئن نہیں تھا- سہما سہما- اُکھڑا اُکھڑا- لاہور پہنچ کر میں …مزید پڑھیں

فیض احمد فیض ( غزل )

نہ کسی پہ زخم عیاں کوئی، نہ کسی کو فکر رفوُ کی ہے نہ کرَم ہے ہم پہ حبیب کا، نہ نِگاہ ہم پہ عدُو کی ہےصَفِ زاہداں! ہے تو بے یقیں، صَفِ مے کشاں! ہے تو بے طلب نہ وہ صُبْح، وِرد و وضُو کی ہے، نہ وہ شام، جام و سبُو کی ہے​ …مزید پڑھیں

میر تقی میر ( غزل)

آئی ہے اُس کے کُوچے سے ہوکر صبا کُچھ اور کیا سر میں خاک ڈالتی ہے اب ہَوا کُچھ اور تدبِیر دوستوں کی مجھے نفع کیا کرے بیماری اور کُچھ ہے، کریں ہیں دوا کُچھ اور مستان ِعِشق و اہلِ خرابات میں ہے فرق مے خوارگی کُچھ اور ہے یہ ، نشّہ تھا کُچھ اور …مزید پڑھیں

امیر مینائی ( غزل)

نِیم جاں چھوڑ گئی نِیم نِگاہی تیری زندگی تا صد و سی سال الٰہی تیری ناز نیرنگ پہ، اے ابلقِ ایّام نہ کر نہ رہے گی یہ سفیدی یہ سِیاہی تیری دِل تڑپتا ہے تو کہتی ہیں یہ آنکھیں رو کر اب تو دیکھی نہیں جاتی ہے تباہی تیری کیا بَلا سے توُ ڈراتی ہے …مزید پڑھیں

شیخ محمد ابراہیم ذوق (غزل)

جب چلا وہ مجھ کو بِسمِل خوں میں غلطاں چھوڑ کر کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتِل کا داماں چھوڑ کر میں وہ مجنوں ہُوں جو نِکلوں کُنجِ زِنداں چھوڑ کر سیبِ جنّت تک نہ کھاؤں سنگِ طِفلاں چھوڑ کر میں ہُوں وہ گمنام، جب دفتر میں نام آیا مِرا رہ گیا بس مُنشیِ قُدرت …مزید پڑھیں