امیر مینائی ( غزل)

نِیم جاں چھوڑ گئی نِیم نِگاہی تیری زندگی تا صد و سی سال الٰہی تیری ناز نیرنگ پہ، اے ابلقِ ایّام نہ کر نہ رہے گی یہ سفیدی یہ سِیاہی تیری دِل تڑپتا ہے تو کہتی ہیں یہ آنکھیں رو کر اب تو دیکھی نہیں جاتی ہے تباہی تیری کیا بَلا سے توُ ڈراتی ہے …مزید پڑھیں

شیخ محمد ابراہیم ذوق (غزل)

جب چلا وہ مجھ کو بِسمِل خوں میں غلطاں چھوڑ کر کیا ہی پچھتاتا تھا میں قاتِل کا داماں چھوڑ کر میں وہ مجنوں ہُوں جو نِکلوں کُنجِ زِنداں چھوڑ کر سیبِ جنّت تک نہ کھاؤں سنگِ طِفلاں چھوڑ کر میں ہُوں وہ گمنام، جب دفتر میں نام آیا مِرا رہ گیا بس مُنشیِ قُدرت …مزید پڑھیں