شیطانی آیات Satanic Verse کا ترجمہ

Satanic Verses
شیطانی آیات
ترجمہ (سلسلے وار)
ترجمہ کار رفیع رضا(
……..

دوبارہ آفرینش کے لئے جبرائیل فرشتہ بہشت سے نزول کرتے ہوئے گنگنا رھا تھا،
دوبارہ آفرینش کے لئے تمھیں پہلے مرنا ھوگا
، او جی ، او جی !!۔۔
اُبھری ھوئی خمیدہ زمین پر اُترنے کے لئے
پہلے پروں کی ضرورت ھے کہ اُڑا جا سکے
۔ تا تا۔۔۔ تاکا دِھن
کیسے کوئی ہنس سکتا ھے
جب تک کہ پہلے رو نہ چُکا ھو۔
محبوب کو کیسے پایا جا سکتا ھے
جب تک اسکے لئے آھیں نہ بھر لی ھوں،
دیکھو بابا ! یہ کرنا ھوگا
اگر دوبارہ پیدا ھونا چاھتے ھو،
،جبریل گنگاتا جا رھا تھا۔۔
اور پھر۔۔
شاید یہ نئے سال کی پہلی صبحِ کاذب تھی یا ایسا ھی کوئی وقت تھا، اُنتیس ھزار دو فُٹ کی بلندی سے برطانیہ اور فرانس کو جوڑتے علاقے کی جھیل میں دو برگزیدہ آدمی کسی پیراشوٹ کی مدد کے بغیر اور بغیر کسی قسم کے پروں کے کُھلے آسمان سے وارد ھوئے۔
۔۔
میں کہتا ھُوں تمھیں لازمی مرنا ھوگا، میں کہتا رھوں گا ، میں کہتا رھوں گا۔۔
وہ یہ کہتا رھا مرمریں چاندنی میں ایک اندھیرے کو کاٹتی زور دار چیخ کے بلند ھو جانے تک۔
شیطان کی دسترس میں سب زیر و بم رھے ھیں،الفاظ یخ بستہ رات میں جم چکے، اور سُنائے سُنائے اندرون تک اب دسترس دو۔
جبرائیل بے سُرے انداز میں مٹک مٹک کر بے وزن غزل گُنگُنا نے کی کوشش کر رھا تھا ھوا میں تیرتے ھوئے انسانی غوطہ خوروں کی نقّالی کرتے ھوئے، سیدھا اُلٹا، تیرتا رھا ، دھندلکے میں رواں دواں
اس نے آواز پر توجہ دی ۔ اوئے سلاد بابا تم ضرورت سے زیادہ اچھے ھو، او پرانے چمچ !۔۔
اِسی دوران دوسرا نہایت مشّاقی سے سر کے بل نزول کرتا ھوا ا رھا تھا۔۔۔
اوئے چمچُو۔۔۔ جبرائیل چِلّایا۔اوئے لندن والو لو ھم آ گئے۔۔اُن حرامیو کو نہیں پتہ اُنہیں کس سے پالا پڑا،کوئی شہاب ِ ثاقب تھا،۔ یا کوئی آسمانی عذاب تھا۔
آسمان سے آ دھمکا ،،دھڑام۔۔ اوہ کیا دخول ھے کیا نزول ھے۔۔اُف۔قسم سے دھماکے دار ھے۔
پھر اک عظیم دھماکے کے بعد ستارے ٹوٹتے گرتے رھے، جیسے بِگ بینگ کی گونج سُنی گئی ھو
جمبو جیٹ کی فلائٹ 420 کے پرزے بغیر کسی وارننگ کے اُڑ گئے۔
مہاگنی، بابلون، ایلفاوِل کوئی بھی نام دیا جا سکتا ھے لیکن جبرائیل اسے پہلے ھی لندن کا نام دے چکا ھے مجھے دخل کی ضرورت نہیں۔ولایت کا دار الؒخلافہ جھمک رھا ھے۔
ادھر ھمالیہ کی اونچائیوں میں طلوع آفتاب سے پہلے کے مختصر جھماکے میں جنوری کی فضا میں ایک لکیر ریڈار سے غائب ھو گئی اور فضا سے گرنے والے بے جان جسم ھمالیہ کے چوٹیوں کے نواح میں گرتے گئے۔

۔۔۔۔
مَیں ۔۔کون ھُوں
یہاں میرے علاوہ کون ھے؟

جہاز درمیان سے دو ٹکڑے ھوچکا، جو انڈے کے اندر تھا جو بیج کے اندر تھا باھر آ گیا۔
دو اداکار ایک تو اُچھلتا ھُوا جبرائیل اور دوسرا گٹھا ھُوا مسٹر صلادین چمچا ایسے نمودار ھوئے جیسے پرانے سگار سے تمباکو کے ذرّے گریں۔
انکے اوپر نیچے دائیں بائیں اُس گہرائی میں ادھر اُدھر ٹوٹی سیٹیں، کانوں میں گھسانے والے سماعتی آلے۔ کھانا پانی لانے والی ٹرالیاں، امیگریشن کے مسافری کارڈ ، ویڈیو گیمز کے سیٹ اور جانے کیا کیا بکھرا پڑا ھے۔
آکسیجن ماسک اور کاغذی کپس کے علاوہ کچھ مائگرینٹس اور ھاں ایک بڑی تعداد اُن بیویوں کی بھی موجود ھے، جنہیں برطانوی امیگریشن آفیسرز نے ذاتی جنسی سوالات کر کر کے گھائل کیا ھوا ھے۔ان سب کے ٹکڑے جہاز کے ٹکڑوں سمیت بکھرے پڑے ھیں،
ان سب کی ارواح کے ٹکڑے بھی تیرتے پھرتے ھیں، جس میں ٹوٹی یاد داشتیں، ،خودی سے دُوری، ، مادری زبان سے محرومی،، پرائیویسی میں مداخلتیں، نا ترجمہ ھو سکنے والے لطیفے ، گم شُدہ مستقبل اور بےثمر محبتیں، بکھری پڑی ھیں۔
دھماکے سے مبہوت ھو جانے والے جبرائیل اور صلادین جیسے کسی بگلے کی لاپرواہ کُھلی رہ جانے والی چونچ سے گرے ھوں، اور چونکہ صلادین چمچہ سر کے بل گِرا تھا جو کہ پیدا ھونے والے بچوں کی طرح ضروری ھے،اُسے اس بات سے چڑ تو ھونی تھی جب باقی لوگ بےھنگم طریق پر گِرے ھوں۔
صلادین سر کے بل سیدھا گِر رھا تھا، جبکہ فرشتے نے ھوا کا ھاتھ ھی نہین تھام رکھا ھر طرح سے ھوا کے ساتھ چمٹ سا گیا تھا۔نیچے بادل کی تہوں کے نیچے انگلش چینل نام کی جھیل انکے آواگون نما آمد کی منتظر تھی۔
دیکھو دیکھو
میرے جوتے ھیں جاپانی۔۔ جبرائیل نے پرانے گانے کو نئی انگریزی میں ترجمہ کر کے گایا ،نیم آگاھی حالت میں منزل کی تمجید کو انگریزی میں گانا ضروری تھا۔
میرا پاجامہ انگریزی، اور سر پر رُوسی ٹوپی، اور دل میرا ھندوستانی ۔۔وہ گا رھا تھا۔۔

بادل انکی طرف سمٹ رھے تھے۔شاید انکی تعظیم کے لئے یا انکا مزاق اُڑانے کو یہ ضروری تھا۔

تاھم جو بھی وجہ ھو دونوں افراد جبرائیل صلادین، اور فرشتہ چمچہ آخری وقت تک اس ھونی کو بُرا بھال کہتے رھے لیکن اُنہیں اپنی ھیئت کزائی کی تبدیلی کا مطلق علم نہ ھو سکا۔
میوٹیشن؟ تبدیلی؟ جی ھاں ! لیکن یہ خود سے تو نہیں ھو گئی۔صدیوں پہلے سے تیار کردہ اور صدیوں بعد ایسے ماحول کی مطابقت اتفاقی تو نہیں ھو سکتی
جہاں حرکت پزیری کا مرکز ھو، اور جنگوں کی مرکزیت ھو۔
مشکوک و غیر مسلسل تبدیلیاں خؤد سے نہیں ھوتیں جیسے کہ فضا میں سب کچھ پھینک دیں تو کچھ بھی ھو جائے کچھ بھی بن جائے۔
جیسے اداکار جادوئی کرتبوں سے بوڑھے مسٹر لمارک کو خوش کر دیتے ھیں کہ زمانی دباؤ سے کچھ بھی تبدیل کیا جا سکتا ھے۔۔

لیکن زمانی دباؤ کے خواص سے پہلے یہ بتاؤ تم سمجھتے ھو تخلیق اچانک اور جلدی ھو جاتی ھے؟ نہیں نا تو پھر کشف بھی کچھ نہیں کر سکتا۔کای کچھ غیر معمولی نظر بھی آ رھا ھے؟ وھی دو براؤن انسان تیزی سے گرتے ھوئے، یہ کوئی نئی بات تو نہیں، تم سوچ سکتے ھو وہ دونوں شاید اپنی اوقات سے اوپر چلے گئے تھے۔ یا سورج کے بہت ھی قریب جانے سے یہ ھوا گیا؟

یہی نہیں ۔۔۔سُنو !۔
مسٹر صلادین جو کہ فرشتے جبرائیل کے حلق سے برآمد ھونے والی آوازوں کی وجہ سے اپنی شعر ، اپنی آیات بھی بھول گیا تھا۔
فرشتے نے جو سُنا تھا وہ جیمز تھامسن کا قدیم گیت تھا،
جبرائیل نے اُلوھی حکم پر اپنے نیلے ھوتے ھونٹوں سے آواز نکالنے کی کوشش کی۔۔۔آواز نہ نکلنے سے خوف کھا کر فرشتے نے اونچی آواز مین گانے کی کوشش کی۔
جاپانی جوتے
رُوسی ٹوپی
برِ صغیر کے زندہ دِلان
لیکن آواز تھی کہ نکل نہ پاتی تھی۔ادھر صلادین وحشت میں گنگنا رھا تھا

چلو ھم اس حقیقت کو کھولتے ھیں، یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کو سُن سکتے۔، بات کرسکتے، یا گنگنانے کا مقابلہ کر سکتے۔
زمین کی طرف سرعت سے ارد گرد کی فضا کا ھولناک شور کیسے انہیں کچھ سُننے دیتا جو وہ ایک دوسرے سے کہہ رھے تھے؟
چلو ھم مان لیتے ھیں اسکے باوجود اُنہوں نے ایک دوسرے کو سُنا !۔۔
۔
تیزی سے زمین کی طرف جاتے ھوئے سخت منجمد کرتی ھوئی ٹھنڈ انکے دلوں تک کو منجمد کرنے پر قادر تھی۔لیکن اسی خوف کے دھچکے سے وہ اپنے اسی گُنگنانے کے سبب بیدار ھوئے یہ سمجھنے کے لئے کہ ارد گرد کے گرتے انسانی اعضا جب زمین پر گِرے تو مکمل منجمد تھے۔
انہیں لگا جیسے وہ ایک عمودی سُرنگ کے اندر ھیں چمچہ جو کہ اُسی طرح سر کے بل نیچے جا رھا تھا اُس نے دیکھا کہ اُس عمودی بادلوں سے ڈھکی چمنی ُنما ٹنل میں جبرائیل فرشتہ اپنی جامنی قمیص میں اُس کی طرف تیرتا ا رھا ھے جس پر صلادین چمچہ شاید چیخا تھا کہ دور رھو۔۔۔مجھ سے دُور رھو۔۔۔یہ کہنے کی کوشش تو کی تھی مگر آواز شاید نہ نکل سکی اور فرشتہ اسکے بازوؤں میں جُھول گیا
لیکن اس دھچکے کے سبب وہ تیزی سے بادلوں کے درمیان سے گرنے لگے اور ایسے حیرت خانے میں داخل ھوئے جہاں، جیسے ھیئتی تبدیلیاں ان میں جاری ھو گئی ھوں دیوتا ، بیل بنا دئیے گئے۔۔۔عورتیں مکڑیاں بن گئیں آدمی بھیڑئیے بنا دئیے گئے ھوں

دوھیئتی مخلوقِ سحابی کی یلغار ان پر ھونے لگی
بڑے بڑے پُھول جن پر انسانی چھاتیاں لٹک رھی تھیں، پروں والی بلّیاں، ، ،،
، ، انسانی دھڑ والے بچھڑے، نظر آنے پر صلادین چمچہ بھی محسوس کر رھا تھا کہ وہ دو ھیئتوں کو اختیار کر چکا ھے۔
اور اب وہ ایک ایسا انسان ھے جسکا اپنا سر اسی کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا ھے۔اور اسکی ٹانگیں اسکی گردن کے گرد لپٹی ھوئی ھیں۔
تاھم اُس شخص کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ مناسب طریق پر ایسا کچھ سوچ سکتا یا محسوس کر سکتا۔کہ کسی خاص عمر میں پُر کشش عورت کے اعضا کیسے ھوتے ھیں۔جس نے بروکیڈ کی سبز و سنہری ساڑھی پہن رکھی ھو۔اور جسکی ناک میں ایک ھیرا جڑا ھو اور جسکی زلفیں ھوا کے دوش پر لہرا رھی ھوں، جیسے کہ وہ ایک اُڑتے جادوئی قالین پر بیٹھی ھو۔
۔۔ریکھا مرچنٹ، جبرائیل نے مدح سرائی کی، تمھیں بہشت کا رستہ بھول گیا؟ یا کچھ اور بات ھے؟
ایک مُردہ عورت سے ایسا کلام کیسی بیہودگی ھے!۔۔
تاھم وہ رہ نہیں سکا۔۔۔کچھ نہ کچھ تو کہنا چاھئیے !۔۔
اُدھر چمچے نے استفساری انداز میں آواز لگائی ، واٹ دی ھَیل۔۔۔؟ کیا بکواس ھے۔۔
کیا تم نے اُسے نہیں دیکھا؟ فرشتہ چِلّایا،
کیا تم اُس بخارا کے ایرانی لعنتی قالین کو نہیں دیکھ رھے؟
نہ نہ نہ ۔۔جبریلو !۔۔ اُس عورت نے سرگوشی کی ۔ صلادین سے مت کہو کہ بتائے۔
میں صرف تمھارے کانوں کے لئے ھُوں،تم دیوانے ھوئے جا رھے ھو۔تُم خود کو کیا سمجھتے ھو، تُم غیر مشہور، ، خنزیر کے گوبر کے ٹکڑے، میری محبت !۔۔یاد رکھو موت کے ساتھ ایمانداری آتی ھے میرے محبوب، اس لئے میں تمھیں تمھارے اؒصلی ناموں سے پکار سکتی ھوں
۔۔۔۔
بادلوں کے ھیولوں کی طرح کی ریکھا نے کچھ تیکھا کسیلا نہیں کہا تھا۔۔لیکن جبرائیل پھر چِلّایا۔۔۔اوئے چمچے کیا تمھیں اسکی زیارت ھوئی کہ نہیں بتاو !۔۔
، صلادین چمچے نے کچھ دیکھا ، نہ سُنا، اور اُس نے کچھ کہا۔۔
جبرائیل کو عورت سے خود مکالمہ کرنا پڑا، تمھیں ایسا نہیں کرنا چاھئیے تھا، ،،وہ بولی نہیں جناب، سچ مچ میں گُناہ تو گناہ ھی ھوتا ھے اور یہ سچ ھے۔
اور تم یہاں مجھے لمبا خطبہ دے سکتے ھو، کیونکہ تمھارا منصب بہت بالا ھے، یہ تم ھی تھے جو مجھے چھوڑ گئے۔۔اس نے فرشتے کے کان میں سرگوشی کی۔
اسکی سرگوشی سے فرشتے کو یاد آیا۔۔جیسے اسکے دماغ سے کچھ چٹکی بھر مغز نکال لے گئی ھو۔
یہ تم تھے،،،میری خوشی کے مہتاب، جو ایک بادل کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ اور محبت کے لئے اندھے ھو گئے تھے۔۔اور گم گشتہ ھو گئے تھے۔۔
فرشتے پر خوف طاری ھو گیا۔ تم کیا چاھتی ھو؟ اچھا مت بتاؤ بس تم یہاں سے چلی جاؤ!۔۔
چلی جاؤں؟ دیکھو جب تم بیمار تھے، تو سکینڈل کی مشہوری کی وجہ سے میں تمھاری عیادت کو نہ آسکی ،یہ تمھارے فائدے کے لئے تھا لیکن جب تمھیں سزا ھوئی تم نے اس سزا کو ایک بہانہ بنایا اور مجھے چھوڑ گئے۔اس بادل کے پیچھے چھپ گئے ، تُم حرامی ! ۔۔اب جب کہ میں مر چکی ھُوں، میں بھول چکی ھُوں کہ کیسے معاف کیا جاتا ھے!۔میں تمھیں بد دعا دیتی ھُوں تمھاری زندگی دوزخی ھو،کیونکہ یہ وھی جگہ ھے جہاں تم نے مجھے بھیجا تھا،جہاں سے تم آئے ھو،او شیطان جہاں تم جا رھے ھو،،خون چوسئیے ! جا لہُو میں غوطہ لگا،

ریکھا کی بد دعائیں اور بعد کی آیات اُس زبان میں تھیں جو اُسے معلوم نہ تھی۔اُسے لگا کہ اُسے اس سارے کا کوئی اثر نہیں ھُوا یا شاید اثر ھُوا تھا۔۔ کیونکہ نام لبوں پر آ گیا تھا اَل لات !
وُہ چمچے کی جانب جھکا اور وہ غباری بادل سے نکل گئے۔
۔۔
، …
)اگلی قسط کا انتظار کریں(

۔

۔









شیطانی آیات Satanic Verse کا ترجمہ” ایک تبصرہ

  1. M n jaffary نے کہا:

    No comments at the moment

تبصرے بند ہیں