اُڑن طشتریاں۔,,,خلائی مخلوق۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔،Aliens۔۔۔۔۔ UFO۔۔۔

خیالی خلائی مخلوق۔۔۔خیال اڑن طشتری

حسبِ وعدہ خلائی مخلوق اور اڑن طشتریوں کے بارے رائے پیش ہے۔
انسانی شعور اور قدرتی میلان ایسا ہے کہ بچپن سے انسان جادوئی غیر مرئی چیزوں اور محیّر العقول باتوں کہانیوں اور چیزوں سے شدید متاثر ھوتے ہیں۔ نہ صرف سوچتے ہیں بلکہ یہی امید رکھتے ہیں کہ ایسا کچھ ضرور ھو۔،
یعنی ھم اپنے اُس قدرتی میلان کی روشنی میں خیال گُمان اور فینٹیسی کی جانب رغبت رکھتے ہیں۔ اسی خاطر انسان نے سوچا کہ یہ قدرتی حیاتیاتی سلسلہ بنانے والی طاقتوں کو سوچا جائے انکا ھیولہ یا حلیہ بنایا جائے۔۔ زمانہ قدیم سے خیال گُمان وسوسہ اور خوابی ماحول کے تحت کسی نہ کسی چیز کو خود سے بھی برتر جادوئی پاک۔۔پوِتّر ماننے کا قدرتی رجحان انسان کے اندر ہے۔اس رجحان کو شدید تقویت دینے والی چیزوں میں خوف۔۔۔اور دوسرا لالچ شامل کیا جاتا ھے۔عربی مذاھب خاص طور پر ایسے ہی سوچ کے تحت رایج کئے گئے۔یونان کی عقل و شعور میں بڑھی قوم میں بھی دیوتاوں یا ھر خدائی صفت کا کوئی خدا یا دیوتا مقرر کیا گیا ھندو ازم میں بھی یہی نظر آتا ھے اسلام میں بھی ایک ہی خدا کو وہ سارے صفات دینے کی کوشش 99 ناموں مین ملتی ہے جو اصل میں انسان کی اپنی صفات ہیں۔ پس انسان اپنے خدا یا دیوتا یا خود سے زیادہ طاقت و شعور رکھنے والی سوچ کا اسیر ہے۔۔ بعض اوقات کئی مزھبی جب لاجواب ھو جاتے ہیں تو کہتے ہین اچھا اب مین اپنا مذھب چھوڑ کونسا مذھب اختیار کروں۔۔کیا عیسائی ھو جاوں۔۔۔ یا عیسائی کہیں گے کیا مسلمان ھو جاوں۔۔۔شیعہ کہے گا کیا احمدی ھو جاوں احمدی کہے گا کیا دیوبندی ھو جاوں ؟
میں حیران ھوتا ہوں کہ اے بندہِ اسیر۔۔۔ تجھےمذھب کی کیا ضرورت ہے؟ کیا عالمی اخلاق نہین بتاتے کہ جھوٹ بولنا فریب دینا بےایمانی کرنا قطار بندی نہ کرنا چوری ڈاکہ۔۔قتل ایذا پہنچانا بُرے اعمال ہیں؟ آخر مذھب کے بتانے سے ہی کیوں ماننا ہے۔ ۔۔۔؟ یوں بھی مذھبی ممالک میں پھانسیوں اور سزاوں کی تعداد غیر مذھبی ملکوں سے کہیں زیادہ ہے۔
مذھبی خداوں دیوی دیوتاوں کی طرح انسانی سوچ ھم جیسی یا ھم سے بہتر کسی مخلوق کے بارے میں بھی پُرامیدی رکھتی ہے۔مثلاً قران میں اور کہانیوں یا افسانوں کی طرح جنّوں کا ذکر بھی ہے۔بلکہ سُورۃ کا نام سُوڑۃ الجن ہے ۔۔یعنی ایسی مخلوق جو آگ سے پیدا کی گئی ہے۔ ویسے یہ نہایت بیہودہ خیال ہے کیونکہ آگ تو کائنات کی ھر چیز کو جلا دیتی ہے۔پس بہت ہی زیادہ درجہ حرارت سے بھی دھاتوں کے درمیان تعامل ھونے سے دھاتین ھی بنیں گی یا گیسیں بنیں گی۔۔کوئی اور جیتا جاگتا وجود کسی صورت بننا ممکن نہیں۔ لیکن کیا کیا جائے انسان کی مذھبی اور رجعتی سوچ کا کہ یہ فرض کر کے کہ جو سُن لیا پڑھ لیا وہ عین سچ ہے پوری زندگی اسی ایمان پر ضائع کر کے لوگ مَر جاتے ہیں۔
جنوں ہی طرح جب انسانی سوچ کسی طبیعی قدرتی کیمیائی یا طبیعاتی مظہر کو سمجھ نہیں پاتی تو اُسے فوری طور پر کسی غیر مرئی طاقت کا کام قرار دیتی ہے۔اس سے اسکے اس پرانے ایمان کی تسکین ھو جاتی ہے کہ ھم سے بہتر طاقتیں موجود ھیں۔جو جیسا چاھیں کر سکتی ہیں ھم جو نہین کر سکتے وہ کر سکتی ہیں۔
اسی سوچ کے تحت دنیا بھر کی تاریخ میں لوگوں نے ھر طرح کی خلائی مخلوق کے دیکھنے کا ذکر کیا جو انسان کی سوچ پڑھ لیتی ہے یا آنکھوں میں دیکھ کر انسان کو ساکت کر دیتی ہے۔انسان بےحس ھو جاتا ھے دیکھ سُن سکتا ھے مگر کچھ عمل نہیں کر سکتا۔۔
پھر اس خلاقئی مخلوق کے آنے جانے کو سواری کے لئے مختلف نام دئیے گئے جیسے جبرائیل ۔۔۔کا اڑتے گھوڑے پر سفر کرنا۔۔۔جیسے کسی گول یا بیضوی چیز اڑن گاڑی جس مین سے شعائین نکلتی ہوں اسکا ذکر کرنا۔۔۔
امریکہ چونکہ جدید ٹیکنالوجی میں سب سے آگے رھا ھے اس لئے امریکہ کے اداروں پر الزام ہے کہ وہ
خلاقئی مخلوق سے رابطہ کر چکے ہیں۔۔یا خالقئی مخلوق کی گاڑی زمین سے ٹکرائی تو اسکے پرزے اور خلائی مخلوق کو زخیمی یا مردہ حالت میں امریکہ کے اداروں نے پکڑا اور کہین چھپایا ھوا ھے وغیرہ۔۔
اسی حوالے سے سیاسی یا کسی اور چال کے تحت وقتاً فوقتاً امریکی میڈیا اڑان طشتریوں کا ذکر شروع کر دیتا ھے۔تاکہ لوگوں کی توجہ کسی اور اھم صورتِ حال سے ھٹائی جاوے۔
اسی کے تحت پچھلے کچھ دنوں سے امریکی کانگریس کی ایک خصوصی کمیٹی کچھ ریٹائیرڈ خلائی ریسرچرز اور سائینسدانوں سے سوال جواب کر رھے ہیں،،
تاھم کوئی نئی بات سامنے نہیں آئی نہ ھو کوئی ثبوت پیش کیا گیا ہے۔صرف دعوے جات ہیں۔۔ناسا مکمل انکار کر چکا ہے۔
مشہور سائیسندان نیل ڈیگراس ٹائیسن نے چند دن پہلے لکھا کہ
۔Sometimes I wonder whether alien space vessels are inherently fuzzy & out-of-focus (that would be terrifying). And whether they love the US Navy
(that would be charming).
If so, it would explain a lot.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی مجھے حیرانی ہے کہ خلائی مخلوق کے جہاز ھمیشہ دھندلے اور غیر واضح ہی کیوں ھوتے ہیں (ویسے یہ خوف والی بات ہے) اور انکو امریکہ کی نیوی سے ہی چھپنے چھپانے میں کیوں لطف آتا ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی نیل ٹائیسن عمومی خیال کو جُھٹلا رھا ھے کہ ایسی کوئی خلائی گاڑی یا مخلوق ہے۔اب یہ روشنیاں اور دھندلی چیزوں کی تیز ترین حرکت کیوں ھوتی ہے تو اس بارے فزکس شاید ابھی اس میگنیٹک اور الیکٹریکل میدان کو سمجھ نہیں سکی جسکی وجہ سے قریبی جہازوں کے بعض انسٹرومینٹ کام کرنا بند کر دیتے ہیں۔عام لوگوں کو شاید معلوم نہ ھو کہ آسمانی بجلی کا گیند سا جب بےپناہ چارج کی وجہ سے بنتا ھے تو بعض اوقات جہاں بنتا ھے وھاں سے 25 کلومیٹر دور بھی جا کر گِرتا ہے۔یعنی جہاں بادل ہیں وھاں سے ادھر بھی جا کر گِر سکتا ھے جہاں بادل نہیں ہیں۔جو غیر سائینسی ذھن کے عام شخص کے لئے سمجھنا بہت مشکل ہے اور ایسا ھوتا دیکھ کر وہ فوری خدا کے غضب ۔۔۔۔خلائی مخلوق کی گاڑی وغیرہ کے خیال کی روشنی میں مشاھدے کو بدل بدل کے پیش کرے گا۔
سوچنے کی بات یہ ہے کہ نہایت تیز رفتار کیمرے ان خلائی گاڑیوں کی تصویر تک نہین لے سکتے جو واضح ھو ۔۔۔اسکی وجہ میرے یہی ہے کہ بے پناہ چارج کے دباؤ اور برقی اور مقناطیسی میدان کی وجہ سے کیمرے کی جانب جانے والے روشنی اپنے معمول یا منطر کی تصویر دھندلا جاتی ہے۔
میں سائینس کا معمولی طالب علم ہوں لیکن میں نے نیل ڈیگراس ٹائیسن کو لکھا کہ جس زاوئیے سے میں سوچ رھا ہُوں اسکو پرکھنے کا کیا طریقہ ھو سکتا ھے؟ کیونکہ یہ رپورٹ کیا جاتا ھے کہ جیسے 1976 کے ایرانی اڑن طشتری والے کیس میں دوسرے جہاز کے نہایت ماھر پائلٹ نے بھی جب جوابی میزائل داغنے کی کوشش کی تو قریبی فاصلے پر اسکے انسٹرومینٹ فیل ھو گئے۔۔ اسنے خؤد کو بچانے کے لئے سرعتی گراوٹ کو اختیار کیا۔۔۔تو بعد مین اسکے انسٹرومینٹ کام کرنے لگے۔۔
اس سے صاف معلوم ھوتا ھے کہ ایسی خلائی چیز کے قریبی علاقے میں بجلی سے چلنے والی چیزیں متاثر ھوتی ہے۔اب اگر آپ سولر سسٹم اور اس سے زمین پر پہنچنے والے خلائی شمسی طوفانون کے بارے جانتے ہوں آپ کو معلوم ھوگا کہ شمسی سولر طوفانوں کی وجہ سے ھماری مواصلاتی نظام درھم برھم ھوجاتے ہیں۔۔کمپیوٹر ۔۔انٹرنیٹ،،بجلی کی ترسیل کا نظام سب متاثر ھو جاتے ہیں۔،، شمسی طوفان اگر شدید تر ھوں تو خلا میں مواصلاتی سیارے ان بےپناہ طاقتور مقناطیسی میدانوں کی وجہ سے تباہ ھوجاتےہیں۔ جاپان کو سیارہ بھی ایسے ہی شمسی طوفان نے تباہ کیا تھا۔
پس یہ خلائی روشنیاں جو لوگ دیکھتے ہین اور جنکی تصاویر تک ٹھیک سے نہین بن سکتیں اور جن میں سے روشنیان نکلتی ہیں۔۔شاید مقناطیسی اور برقی ارتکاز کے حصار ہوتے ہیں اور بعض اوقات ساکن ھوتے ہیں لیکن جب حرکت کرتے ہیں تو بعض اوقات روشنی کی رفتار سے طرح غائب ھو جاتے ہیں۔ انکا اتنی تیزی سے غائب ھونا یا ایک جگہ کے الٹ کسی جگہ جا موجود ھونا بتاتا ھے کہ وہ دھاتی سٹرکچر نہیں ہیں ۔۔۔یہ تو سائینسی استدلال تھا دیکھتے ہیں سائینس اس پر آگے کیسے روشنی ڈالتی ہے۔
اب ھم اس پر فلسفیانہ اور منطقی طور پر غور کرتے ہیں۔
اگر یہ نظام حیات کسی طاقت یا خدا یا خداوں نے بنایا ہے تو ظاھر ھے وہ ھم سے زیادہ طاقت ہیں۔۔ اگر وہ اپنے آپ کو کسی ڈائمینشن یا جہت میں چھپائے ھوئے ہیں تو ھم جتنا چاھیں ترقی کر جائیں انکو۔۔انکی مرضی کے بغیر نہیں ڈھونڈ سکتے۔
اگر اُن طاقتوں نے یا طاقت نے یا خدا نے کچھ بھی کہہ لیں(لیکن مذھبی خدا جھوٹ ہے) اگراس زمین کی مخلوق کے علاوہ بھی کوئی مخلوق بنائی ہے تو کیوں وہ ھم سے زیادہ طاقت ور ھوگی؟جبکہ کروڑوں اربوں سالوں کے ارتقا سے ھمارا وجود کم از کم زمین پر اشرف المخلوقات طے ھوا۔ اگر کروڑوں سالوں میں یہ سنگ میل انسان تک پہنچا ھے تو کیسے ممکن ہے کہ کہین اور اس سے بہتر ڈیزائین کی حامل مخلوق بن گئی ہو؟ کیونکہ جب خدائی طاقتیں کنٹرولڈ ارتقا کی جانب چل رھے ہین تو کسی اور سیارے پر اس سے بہتر ڈیزائن ممکن نہیں۔یعنی اگر جدید ترین کمپیوٹرز کو جوڑ کر سُپر کمپیوٹر صرف اسنان زمین پر بنانے میں بمشکل کامیاب ھوا ھو تو کسی کسی ستارے یا چاند اس سے بہتر کمپیوٹر انسان تیار کر لے گا؟
پس عقلی طور پر یہ ممکن نہیں۔
مذھب خدا کا خیال تو خیر نہایت ھی ادنی خدا کا خیال ہے جو جنت دوزخ بنا کر بیٹھے ھوئے احمق اور طیش سے بھرے بُڈھے کی صورت کا خیال ہے۔جسکو گناہ گار انسانون کو دوزخ میں پھینکنے اور نیکوکاروں کو کنواری عورتیں دینے کے سوا کوئی خوف یا لالچ معلوم نہیں۔ ایسے خدا نے جب انسان کو اشرف المخلوق قرار دیا ہے تو پھر خلائی مخلوق کی گاڑی اور اسکی کارستانیاں انسانوں کے لئے ھیچ ھونی چاھئیں۔اور انسان کو غالب آنا چاھئیے۔۔لیکن کیا کیا جائے کہ مذھب بیچارہ خود ھی متضاد سوچ کا کنفیوذ خدا رکھتا ھے جس نے جن بھی بنائے آگ سے۔۔۔۔جو سلیمان کا تخت ایک پل میں اسکے پاس لے آئے۔
تیسرا زاویہ یہ ہے کہ کیا یہ روشنیاں یا خلائی جہاز وغیرہ۔۔۔کہیں خدائی طاقت کے مظاہر نہ ھوں؟
آئیے غور پر کرتے ہیں کہ حیاتیاتی نظام میں نام نہاد خدا یا خدائی طاقتوں نے کیا کبھی حیاتیاتی نظام چلانے کو اعلی ترین طبیعاتی فلکی مقناطیسی میدانوں کو استعمال کیاہو؟ ھم دیکھتے ہیں کہ کیمیائی تعامل کثرت سے انسانوں جانوروں اور پودون میں استعمال ھوتے ہیں۔ مگر بہت مقامات پر حیاتیاتی طاقت۔۔۔ طبیعاتی یا فزکس کے اصولوں کی مکمل غلام ہے اور کسی بھی جگہ کسی بھی طور پر کائنات کے فلکیاتی اور طبیعاتی نظاموں پر کسی فنکشن کی وجہ سے کسی کاریگری سے تسلط نہین پا سکی۔
مثلاً انسانی فوطے اس لئے جسم سے باھر آتے ہیں کہ اندر کی زیادہ گرمی سپرمز کو مار نہ دے۔ یعنی ایسا نظام نہ بنا سکا کہ سپرم اندر ہی رھتے

فالتو عضو باھر لٹکانے کی کیا ضرورت تھی؟

One of my favorite examples of evolution and how we can see it in living things today:  The laryngeal nerve of the giraffe, linking larynx to brain, a few inches away — but because of evolutionary developments, instead dropping from the brain all the way down the neck to the heart, and then back up to the larynx.  In giraffes the nerve can be as much as 15 feet long, to make a connection a few inches away.  Richard Dawkins explains:
All mammals have the nerve, and as a result of our fishy ancestry, in all mammals, the nerve goes down the neck, through a heart blood vessel loop, and back up.  In fish, of course, the distance is shorter — fish have no necks
.


ڈاکٹر رچرڈ ڈاکنز سے سائینسدانوں کے ایک بڑے ھال میں ایک نمائش کی اور ایک زرافے کے دماغ سے حلق میں آنے والی اور پھر واپس آنے والی نرو ٹیوب کو دکھایا۔
laryngeal nerve
دماغ سے نکل کر جانداروں کے حلق میں آتی ہے انسانوں میں اور مثلاً مچھلیوں میں یہ نرو دماغ سے گلے میں آ کر واپس جاتی ہے لیکن راچرڈ ڈاکنز اسے کاپی پیسٹ ڈیزائن کی خرابی کہتا ہے کہ ذرافے میں یہ نرو ٹیوب دماغ سے نکل کر لمبی گردن سے ھوتی ھوئی دل کے قریب سے یوٹرن لیکر واپس دماغ میں چلی جاتی ہے۔جبکہ ھرگز اسکی کوئی طبی ضرورت نہیں تھی۔
اس سے پتہ چلتا ھے کہ خدائی طاقتوں یا طاقت نے کیمیائی تعاملات کو حیاتیاتی سلسلے میں رایج کرنے میں مکمل کامیابی نہیں پائی کچھ خامیاں موجود ھیں۔ جو ھر سال لاکھوں معزور انسانوں معزور درختوں ، معزور پرندوں اور معزور جانوروں کی ناقص پیدائیش کا باعث ہے
یونیسیف کے مطابق اس وقت دنیا میں 240 ملین معزور بچے ہیں
اب سوچیں کہ یہ تعداد پاکستان کی آبادی سےبھی زیادہ ہے۔اگر بالغ اور معزور بچے شمار کریں تو تعداد 1300 ملین سےبھی زیادہ ھوگی۔ یعنی کُل انسانی آبادی کا چھٹا حصہ معزور ہے؟ کیا خدائی ڈیزائینگ نقایص سے عاری ہے؟ نہیں ھرگز نہیں
۔۔پس ۔ خدا کی اس ڈیزائینگ کی خامی کے باقصف ھم کہہ سکتے ہیں کہ ھمارے خداوں یا خدا کی ھم سے بہتر کسی خلائی مخلوق کا تصور درست نہیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیع رضا
کینیڈا
www.silsla.com

Rafi Raza

اعلی ذوق، فحاشی، گندی تصویر یا قدرتی حسن

اعلیٰ ذوق، ادنیٰ ذوق


"یہ کیا واہیاتی اور فحش پن ہے؟ میرا سوال یہ ہے کہ آخر اس گندی تصویر کی وجہ ہی کیا ہے؟ کیا آپ کو شرم نہیں آتی کہ ایسے اخلاق باختہ اور عریاں مناظر دیکھتے ہیں؟ آخر آپ کس وضع کے انسان ہیں؟” یہ اور اس جیسے بہت سے چبھتے ہوئے سوال متوقع ہیں۔

لیکن کیا واقعی ایسا ہے؟ کیا سچ میں یہ تجسیم اخلاق باختہ اور فحش ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ یہ مجسمہ "عصمت” یا "حیاء” سے موسوم ہے۔ اس کا ایک اور نام "چھپا ہوا سچ” بھی ہے۔ اسے سین سیورو کے اطالوی شہزادے، ریمونڈو ڈی سینگرو نے اپنی مرحوم ماں سسیلیا، جنہیں وہ بےنظیر ماں کہا کرتے تھے، کی یادگار کے طور پر بنوایا تھا۔

اس مجسمے کو اٹلی کے شہر نیپلز کے چیپل آف سین سیورو میں نصب کیا گیا ہے۔ شہزادے کی ماں کا انتقال اس وقت ہو گیا تھا جب وہ ایک نوجوان خاتون تھیں اور شہزادہ ابھی بہت چھوٹا تھا۔ دلچسپ سوال یہ ہے کہ اس طرح کا مجسمہ قبرستان کی ایک ایسی عبادت گاہ میں کیوں لگایا جائے گا جہاں مسیحی اپنے مردے دفناتے ہیں اور ان کی بخشش کے لیے عبادت کرتے ہیں؟ پھر ایک شہزادہ کیوں یہ چاہے گا کہ اس کی مرحوم ماں کا جوان جسم نمائش کے لیے لگایا جائے تاکہ فوت شدگان کی آخری رسومات کو آئے لوگ اس مجسمے کی زیارت کر سکیں؟

سنگ مرمر کا بنا ہوا یہ مجسمہ چلنے کی حالت میں ہے، جس کا وزن دوسرے پاؤں سے پہلے سے زیادہ ہے۔ اس طرز قیام سے اس کو انسانی وصف اور حرکت کا تاثر ملتا ہے گویا وہ حرکت میں ہے۔ اس کی نفیس چادر، جو بذات خود سنگ مرمر کی بنی ہے، جس طرح سے اس کے جسم پر پڑی ہے وہ بھی اس کے حرکت میں ہونے کو ظاہر کرتی ہے۔ اس کی توجہ ناظرین سے پرے ہے، اور شفاف پردے نے اس کی آنکھیں ڈھکی ہوئی ہیں۔

اس کا انداز مدعو کرنے والا ہے۔ تاہم، اس کا چہرہ ایک الگ کہانی کہہ رہا ہے۔ اس کے پستانوں کو زیادہ ابھارنے کے لیے پردے کا استعمال ہنرمندی کا اعلیٰ ثبوت ہے۔ اس کے پیٹ کے وسطی حصہ میں پڑنے والے کومل گڑھے اس کے پٹھوں کے تناؤ اور جسم کے آہنگ کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کے زیر ناف حصے کو گہنا دیا گیا ہے تاکہ یہ بالواسطہ جنسی تحرک کا مؤجب نا ہو۔ اس کا ملائم جسم تقریبا سیال ہے جیسے اس میں ہڈیاں نا ہوں اور وہ ایک ہموار اور کامل انسان ہو۔ ان مثالی خصوصیات سے یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ وہ اس دنیا کی نہیں بلکہ ایک الوہی عورت ہے۔

یہاں، فنکار، انٹونیو کوراڈینی، جو کہ مقدس رومی شہنشاہ چارلس پنجم کے شاہی مجسمہ ساز تھے، عورت کے جسم پر فطری خوبصورتی سے رکھے ہوئے پردے کی تشکیل میں ایک کمال حاصل کرتے ہیں۔ اس مجسمے کا واحد مقصد سیسیلیا کی یاد منانا نہیں ہے بلکہ پردہ دار عورت کو حکمت کا محور سمجھا جاسکتا ہےنیز پردہ کی شبیہ سچ کی بہت عمدہ وضاحت کرتی ہے۔

اگرچہ اس عورت کا پردہ اس کی چھاتیوں، پیٹ اور چہرے سے قریب تقریباً شفاف ہے،تاہم اسرار اور انکشاف دونوں کی گنجائش بہرحال موجود ہے۔ پردہ غیر منقول ہے، جو کامل وضاحت کو ناقابل حصول بنا دیتا ہے۔ ناقابلِ رسائی ہونا سب کچھ دیکھنے کی آرزو پیدا کرتا ہے، پردہ پکڑنے کی خواہش، اسے ہٹا کے نیچے دیکھنےکی جستجو، کہ نیچے کیا ہے۔

اس کا جسم آنکھوں میں کھینچتا ہے، اور اس کی پرکشش ہئیت کا بہت تھوڑا سا حصہ چھپا بھی رہتا ہے کیونکہ پردہ ابھی بھی اس کو ڈھانپ دیتا ہے، جس سے رومانویت اور رواداری کے درمیان توازن پیدا ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ جب دیکھنے والا عورت کے بارے میں عمیق مشاہدہ کرتا ہے تو بھی، وہ ایک طرف دیکھتی رہتی ہے، جیسا کہ حتمی فیصلہ کر چکی ہو کہ ناظرین کو اس بات کی اجازت نہیں دی جائے گی کہ وہ اصل میں کون ہے۔

اس مجسمے کے حوالے سے سچائی کا تصور انتہائی دلچسپ ہے۔ سچ کی نزاکت کا ایک عنصر خود پردے کی بھی پیچیدہ تفصیل میں دکھایا گیا ہے۔ پردہ کی لطافت، سچائی کی نزاکت کو بتاتی ہے کہ سچ کتنا شفاف ہوتا ہے اور اتنی ہی آسانی سے پراگندہ ہوسکتا ہے۔ اس فن پارے نے سچائی کی نوعیت کے بارے میں اہم سوالات اٹھائے ہیں، کیا آفاقی سچ کبھی واقعی واضح بھی ہوتا ہے یا پھر یہ ہمیشہ مہین سے پردے میں ملفوف رہتا ہے۔ بادی النظر میں یہ عورت سچائی کا ایک نمونہ ہے، سچائی جو ایک پرکشش ساتھی ہے، جو نظر سے قریب بھی ہے لیکن کبھی بھی پوری طرح سے بے نقاب نہیں ہوتی۔

اسی حوالے سے ایک مزید پہلو آفاقی سچائیوں کی کشش کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ سچ ہمیشہ پرکشش ہوتا ہےمگر اس تک رسائی بلاواسطہ نہیں ہوتی۔ سچائی کبھی بھی اپنا آپ آسانی سے آشکار نہیں کرتی بلکہ اس کے لیے جدوجہد بنیادی شرط ہے۔ اس خوبصورت عورت کا دیکھنے والے سے براہ راست نظریں نا ملانا ایک انتہائی گہرے پیغام کا حامل ہے کہ کامل حقیقت قریب قریب ناقابل دریافت ہے۔ اس کے کھڑے کھڑے سر پستان حق کی کشش کو واضح کرتے ہیں کہ حق سب سے زیادہ پرکشش ہوتا ہے مگر اسی رعایت سے اس تک رسائی بھی آسان نہیں ہوتی۔

اس مجسمے کے ممالیاتی غدود ایک اور پہلو بھی اجاگر کرتے ہیں جو کہ جسم کا فحاشی سے تعلق ہے۔ جیسا کہ مذکور ہے کہ یہ مجسمہ ایک ماں کی یادگار کے طور پر ایک عبادت گاہ میں لگایا گیا ہے۔ یاد رہے کہ مسیحیوں میں بتوں کی پوجا نہیں ہوتی چنانچہ یہ مجسمہ مسیحی قبرستان کی ایک عبادت گاہ میں حصول برکت کے لیے رکھا گیا ہے۔ اس مجسمے کی مدد سے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ جنسی اعضاء فحاشی کی نمائندگی نہیں کرتے بلکہ جسم تو جمالیاتی پہلووں کو اجاگر کرتا ہے نیز جنسی اعضاء کا تعلق افزائش اور خوشحالی سے ہے۔

اچنبھے کی بات ہے کہ ماں جیسی پاکیزہ ترین ہستی کے جنسی اعضا کو چھپانے کی کوشش نہیں کی گئی؟ کیا ایک لمحے کے لیے بھی تصور کیا جا سکتا کہ ایسے سنجیدہ موقع پر جہاں فن کار کی ساری کاوش ستائش و فہمائش کی بجائے آرائش و زیبائش میں سمٹ آئی ہو، وہاں اسے جنسی لذت کا خیال کیسے آ سکتا ہے؟ اور خصوصاً جب کہ وہ اپنے جذبوں کا اظہار نہ کر رہا ہو بلکہ ولی عہد نے ایک اہم فرض اس کے سپرد کیا ہو۔ ایسے مقام پر صرف ایسے لوگوں کا ذہن جنس آلود ہو سکتا ہے جو جمالیاتی احساس سے عاری اور چھچھورے پن کا شکار ہوں۔

برہنہ جسم دیکھنے اور دکھانے کے لیے بڑی فنکارانہ قوت، سنجیدگی اور گہرے اخلاقی و روحانی احساس کی ضرورت ہے۔ جسم اور بالخصوص جنسی اعضاء کو پاک سمجھنا غالباً سب سے مشکل مسئلہ ہے جو انسانی ضمیر کے سامنے آ سکتا ہے۔ جسم کو روح کے برابر پاکیزہ اور لطیف محسوس کرنا ایک ایسا مقام ہے جو فرد اور قوم دونوں کو تہذیب کی انتہائی بلندی پر ہی پہنچ کر حاصل ہوتا ہے۔

مجسمہ ساز نے یہاں بجائے غیر ضروری تقدس پیدا کرنے کے ایک بےساختگی دی ہے۔ وہی بےساختگی اور شگفتگی جو طمانیت کا اعادہ کرتی ہے۔ حالانکہ مجسمہ حرکت نہیں کرتا مگر سکون کا تحرک ضرور پیدا کرتا ہے اور یہ سکون اور ہم آہنگی ہی انسانی ترقی کا استعارہ ہے۔

یہاں پریشان کن بات لذت کا تصور اور گندگی ہے۔ جنس اور جنسی اعضاء ہمیشہ لذت سے جڑے رہے ہیں اور رہبانیت پسند معاشروں میں دنیاوی لذت کی اکثر چیزیں بالعموم ناپسندیدہ ہی گردانی جاتیں ہیں چنانچہ جنس بھی امر ممنوعہ سمجھی جاتی ہے۔ حالانکہ سچائی اور حکمت کا جس طرح کامل اظہار اس فن پارے نے کیا ہے وہ شاید ایک ہزار وعظ بھی نا کر پائیں تب بھی اکثریت کے نزدیک یہ مجسمہ فحاشی و گندگی کا غماز ہو سکتا ہے۔

ایک فرد کی حیثیت سے ، وہ عورت اپنے واہموں کا شکار ہوسکتی ہے، اس کی نظر اس کی انتہائی شائستگی کی وجہ سے پرے ہے، جو دور خلا میں سچائی کی تلاش کر رہی ہے، لیکن اس تلاش حق کے باوجود وہ اپنا پردہ نہیں جھٹکتی مبادا وہ خود پہ ایک نظر ہی ڈال سکے۔ اس نے نہ صرف ایک تجریدی معنی میں سچائی کی نوعیت پر سوال اٹھایا بلکہ ہمیں مناہی اور خوف سے نجات دیتے ہوئے یہ جاننے کے لئے اکسایا ہے کہ ہم واقعی میں کون ہیں؟

خیر، آپ غیر ضروری طوالت کو معاف رکھتے ہوئے پہلے پیرے پر غور کریں۔ اگر اس مجسمے کو دیکھتے ہی آپ کے ذہن میں بھی یہی تشکیک پیدا ہوئی تو مبارک ہو، آپ نے اعلیٰ ذوق کی طرف سفر کا آغاز کر دیا ہے۔

This image has an empty alt attribute; its file name is iiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiiii-578x600.jpg

قرآن، کے قدیم نسخے، قران کب لکھا گیا؟

قرآن کو بارے میں غیر مذھبی، اور خالص سائینسی تحقیقات کے مطابق ابتدائی قرانی ٹکڑوں میں پرانے انبیا کے بارے آیات تو موجود ھیں لیکن محمد صآحب کے بارے نہیں، مدینہ یا مکہ کا کوئی تذکرہ نہیں کہ معلوم ھو کہ یہ تحاریر کب کی ہیں،،،۔ بعد میں ان سے متعلق مواد بھی ھے۔
تحقیق کے مطابق نسخہ کا میٹیریل کتنا پرانا ھے کا اندازہ لگانے والوں نے اُسے اسلام سے بھی کچھ پہلے کا بھی مانا ھے۔کچھ نے محمد کی ولادت سے پہلے اور کچھ نے قریب و بعد ولادت کاربن ڈیٹنگ کی تواریخ نکالی ہیں۔
اس بارے سچی تحقیق کسی مذھبی یا خاص مسلمان سے کی جانے کی امید رکھنے والے بیوقوف ھونگے کیونکہ وھاں ایمان کی بنیاد پر تحقیق کی جائیگی جو کہ سائینسی رویہ یا طریقہ نہیں ھے ،،اسکے لئے بےلاگ بے ایمان سائینسی لوگ ھی مدد دے سکتے ھیں۔

۔

ھمیشہ سائینس میں بھی مستشرقیں و ملحدین وغیرہ سے مدد لینا پڑتی ھے۔کیونکہ ان سے ھمیں بغیر ایمان کے سچی تحقیق کی امید ھوتی ھے۔۔
برمنگھم کی لائیبریری میں موجود تین چوتھائی سے کم حصہ والے اس قرانی نسخوں اور موجودہ یا بعد کے قرآنی نسخوں کی طوالت اور آیات و مضامین میں مماثلت موجود ھے۔
ابوبکر کے بارے کافی خیال کیا جاتا ھے کہ اصل مصنف وہ بھی ھو سکتے ھیں۔ کیونکہ وہ ہی محمد کے قریب ترین ساتھی رھے ھیں۔
پھر سب سے اھم بات یہ ھے کہ عثمان نے سارے دوسرے نُسخے کیوں جلائے؟ اگر فرق نہیں تھا؟ یہ بات ایسی ھے کہ اس کو کسی صورت بھی رد کرنے والے مسلمان سے مزید بحث کرنا احمقانہ ھوگا۔۔یہاں اُسکا اور تحقیق کا میدان الگ ھوجاتا ھے۔
معلوم ھوتا ھے عثمان کے دور میں ایسے نسخوں مین بہت زیادہ فرق تھا جسکی وجہ سے اُن نسخون کو جلا دیا گیا۔۔تاھم اس سے پہلے یا بعد میں کچھ اور نسخے جن کے مضامین الگ تھے وہ کچھ لوگوں نے کہیں چھپا دئیے کسی مٹی کے یا آھنی مرتبان میں محفوظ کر دئیے ۔۔جو مختلف قریبی ممالک کی کھدائیوں میں بار بار دریافت ھوئے ھیں۔
یمن سے خاص طور پر کئی نمونے ملے۔۔۔یمن سے کیوں مِلے؟ اس سے پتہ چلتا ھے کہ یمن کے اُن ادوار کے بادشاھوں کا بھی اس میں حصہ ھوگا۔۔۔جنہوں نے پہلے مسلمانوں کو پناہ دی ۔۔یا مِلکر یہ قرآنی منصوبے بنائے۔۔
سائینسی سکالرز کے مطابق ایسے قرآنی نسخوں میں جو کہ کسی جانور کی کھال پر لکھے ملتے ھیں۔ بسا اوقات ایک تحریر کے نیچے سے اور مختلف مضمون و معانی کی تحریر جا بجا ملتی ھے جس سے پتہ چلتا ھے۔ کہ مضامین میں ترامیم تھیں،،اسی لئے عثمان کے دور میں سب کو مِلا جُلا کر جو قرانی ترتیب بنائی گئی اسے نافذ کرنے کی زبردستی کوشش کے نتیجے میں باقی انفرادی قرآنی نمونے جلا دئیے گئے۔۔اور ممانعت کی گئی کہ باقی طرح کے قرآنی نمونے نہ استعمال ھوں،
برمنگھم یونیورسٹی لندن انگلینڈ میں عرب ممالک سے قدیم پارچات کی کھدائیوں کے دوران ملنے والے اس جزوی قرآن، کے بارے تحقیق کی گئی تو مختلف کارب ڈیٹنگ نتائج معلوم ھوئے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی کے ریڈیو کاربن ایکسلریٹر یونٹ کے ذریعہ کئے گئے یہ ٹیسٹ ، بتاتے ہیں کہ یہ ٹکڑے ، جو بھیڑوں یا بکریوں کی کھال پر لکھے گئے تھے ، قرآن کریم کی قدیم زندہ عبارتوں میں شامل تھے۔ یہ ٹیسٹ بہت سی تاریخوں کی تاریخ فراہم کرتے ہیں ، جس میں یہ ظاہر ہوتا ہے کہ
سنہ 568 سے 654
تک اسکی عمر ھو سکتی ھے

یونیورسٹی کے عیسائیت اور اسلام کے پروفیسر ڈیوڈ تھامس نے کہا ، "وہ اسلام کے اصل بانی چند سالوں میں ہمیں اچھی طرح سے واپس لے جاسکتے ہیں۔

پروفیسر تھامس کے مطابق ، فولیوز کی ڈیٹنگ کا بھی بہت اچھی طرح سے مطلب یہ ہوسکتا ہے کہ قرآن پاک لکھنے والا شخص شاید زندہ رہتا تھا اور حضرت محمد (ص) کی تبلیغ سنتا تھا۔

واقعتا. جس شخص نے یہ لکھا تھا وہ محمد کو اچھی طرح سے جان سکتا تھا۔ شاید وہ اسے دیکھتا ، شاید اس نے اسے تبلیغ کرتے ہوئے سنا ہوگا۔ ہوسکتا ہے کہ وہ اسے ذاتی طور پر جانتا ہو – اور یہ واقعی اس کے ساتھ قابو پانا کافی سوچ ہے۔
،،
محقق کی اس تحقیق سے کاتیبین وحی یا مصنفین قرآن کی جانب وجہ جاتی ھے۔میرا ذاتی خیال اور تحقیق کے بتاتی ھے۔ کہ ابوبکر یعنی ابن قحافہ کا حسہ بہت زیادہ ھوگا۔جبکہ عمر نے بعد میں کچھ مضامین کو شامل کروایا جن میں شراب کی ممانعت وغیرہ شامل ھے۔
برمنگھم کے ان مخطوطات میں دو اوراق ہیں۔تحقیقی نگار نے صرف 33 ممضامین یا جملوں کا بعد کے قرآنی نسخون سے موازنہ کیا تو معلوم ھوا کہ قران کے آدھے سے کچھ زیادہ جملے یا آیات نامکمل ، ٹوٹے پھوٹے، یا مضمون کی کافی تبدیلی والے یا مختلف ھیں۔
برمنگھم کے ان نسخوں پر دو سکالرز سے لیکچرز کی درخواست کی گئی۔۔یہ 2015 کا واقعہ ھے۔
اسے برمنگھم فریگمینٹس شو کا نام دیا گیا۔۔
روسی سکالر ایفین ریزوان۔۔۔۔۔نے
بتایا کہ
“The very early dating of all these fragments-before the reign of Uthman-casts doubt on *both the Islamic tradition” *refer to the next section
“The fact that the folios were kept for centuries in an iron box, underground can partly explain the early radiocarbon dating”
“Parchment was an expensive material (the skin of an entire animal was used to produce the big folio). Monastic and state scriptoria, located on the territory of Greater Syria, Antiochia, al Hira and Alexandria areas, could store this valuable material (including the donations of the pious laity).
یعنی یہ شام سے مِلے کسی جانور کی مکمل کھال پر لکھے گئے ہیں،اور کسی آھمی مرتبا میں بہت لمبا عرصہ تک چھپائے گئے۔

۔
These stocks became part of the loot captured by the Arabs in the first years of the conquest. Captured leaves were used for writing the Quran.”
اب مسئلہ یہ ھےکہ جانور کی کھال جس پر لکھا گیا وہ تو بہت پرانی ھے کیوں کہ مسلمانوں نے جب شام کو تاراج کیا اور لُوٹا تو یہ پارچات یعنی اَن لکھے پارچات انکے ھاتھ لگے۔۔۔اب ان پارچات پر کب لکھا گیا یہ معلوم نہیں۔۔ ظاھر محمد کے زمانے میں لمبی تحاریر لکھنے کے لئے عربوں کے پاس مہارت موجود نہیں تھی۔

Conclusion; is that we cannot know when the writing took place as the carbon dating only gives a time line to the animal skin, not the writing, and the parchments were written on at a much later date.

Emilio Platti; “pointing out differences to the Sana codex-unquestionably the oldest manuscript (705), which therefore means that this Birmingham fragment is subsequent to the oldest manuscript (Sana).”
جبکہ دوسرے محقق ایمیلیو پلاٹی کے مطابق صنا یا صنعا لکھائی کا طریق قدیم ترین اسلوب 705 عیسوی کا ھے۔۔
جبکہ ایک اور محقق ڈاکٹر جے سمتھ کے مطابق کاربن ڈیٹنگ سے یہ نسخے اسلام سے بھی پہلے کے معلوم ھوئے ھیں۔
اور یہ درآمدہ پرانی کہانیوں کو بدل کر لکھا گیا ھے۔اور بہت سی آیات بائبل اور انجیل وغیرہ سے کچھ تبدیلی کیساتھ یہان لکھ دی گئی ھیں۔ لیکن کسی میں بھی مدینہ، مکہ۔۔اور محمد کا ذکر حیرت انگیز طور پر نہیں موجود ھے۔

Dr. Jay Smith; the verses found on the Birmingham text pre-date Islam, examples and are plagiarised stories;
Sura 18:17-31; = the 7 sleepers of Ephesus (Metaphrastes & Surag 521 A.D.)
Sura 19: 91-98 = Proto Evangelium of James (145 A.D.)
Sura 20: 1-40 = the story of Moses (1400 B.C.)
None of the verses cover Mohammed, Medina, or Mecca, and there is nothing to do with the Caliphs7
۔۔۔۔
برٹش لائبریری کے ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ واضح لکھائی میں حجازی لکھائی میں لکھے گئے یہ نسخے یقینی طور پر پہلے تین خلفا کے زمانے کے ہیں یعنی 632 اور 656 کے عرصے کے۔ ڈاکٹر محمد عیسیٰ کا کہنا ہے کہ ان کا کہنا ہے کہ مسلمان اس وقت اتنے امیر نہیں تھے کہ وہ دہائیوں تک کھالوں کو محفوظ کر کے رکھتے اور قرآن کی ایک مکمل نسخے کے لیے کھالوں کی بڑی تعداد درکار تھی، یہ نسخہ 3000 سے زیادہ مشرق وسطیٰ کے دستاویزات کے مسٹر منگانا مجموعے کا حصہ ہے جو 1920 کی دہائی میں جدید کےعراق کے شہر موصل سے پادری الفونسے منگانا لائے تھے،

برمنگھم یونیورسٹی میں ملنے والے قرآن کریم کے صفحات 1370 سال پرانے ہیں اور یہ ایک زمانے میں مصر میں فسطاط میں واقع دُنیا کی قدیم ترین مسجد عمر بن عاص میں رکھے ہوئے تھے۔

اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ماہرین کو تقریباً یہ یقین ہو گیا ہے کہ یہ صفحات پیرس میں فرانس کی نیشنل لائبریری ’ببلیوتھک نیشنل دی فرانس‘ میں رکھے قرآن شریف کے صفحات سے ملتے ہیں۔

۔

لائبریری اس بارے میں قرآن کے تاریخ دان اور کالج دی فرانس میں معلم فرانسوا دریچو کا حوالہ دیتی ہے جنھوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ برمنگھم میں ملنے والے صفحات اور پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات قرآن شریف کے ملتے جلتے نسخے کے ہیں۔

برمنگھم یونیورسٹی کی دستاویزت میں قرآن کے صفحات تلاش کرنے والے محقق البا فدیلی کا بھی یہی کہنا ہے کہ پیرس اور برمنگھم یونیورسٹی میں موجود صفحات ایک ہی نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری میں رکھے ہوئے صفحات کے بارے میں علم ہے کہ یہ فسطاط میں مسجد عمر بن عاص کے قرآن شریف کے نسخے کے ہیں۔

پیرس کی لائبریری کے صفحات انیسویں صدی کے اوائل میں نپولین کی فوج کے مصر پر قبضے کے دوران وہاں تعینات وائس کونسل ایسلین دی چرول یورپ لائے تھے۔

پروفیسردریچو کا کہنا ہے کہ ایسلین دی چرول کی بیوہ نے یہ نسخہ اور کچھ اور قدیم دستاویزات برٹش لائبریری کو سنہ 1820 میں فروخت کرنے کی کوشش کی لیکن یہ پیرس کی نیشنل لائبریری کو مل گئے اور جب سے اب تک یہ وہیں محفوظ ہیں۔

اسی دوران کچھ حصے نکال لیے گئے جو بعد میں فروخت کر دیے گئے۔ قیاس یہی ہے کہ متعدد بار فروخت ہونے کے بعد یہ صفحات ایک عراقی پادری ’ایلفاس منگانا‘ کے ہاتھ آئے۔ وہ مشرق وسطی میں نوادرات اکٹھا کرنے کے لیے مشرق وسطیٰ جایا کرتے تھے جن کا خرچہ برطانیہ کا کیڈبری خاندان اٹھاتا تھا۔

پروفیسر دریچو کا کہنا ہے کہ اس بات کے کوئی سرکاری شواہد موجود نہیں رہے لیکن اس طرح مسٹر منگانا کو فسطاط کے خزینے کی چند دستاویزات ملی ہوں گی۔ منگانا کو انہی گراں قدر علمی خدمات کے عوض ’لیجن آف آنر‘ کا اعزاز دیا گیا۔
۔۔
اب ان دلائل اور تواریخ کے بعد ھم اصل منشا کی جانب چلتے ہیں، جس میں قرآن کے بارے میں دعوی جات کی فہرست بنائیں اور ھر ایک کا شافی جواب بھی تلاش کریں، لیکن ھمارا رویہ ایمانی نہیں ھوگا درسی و تدریسی و تحقیقی ھوگا۔کیونکہ پہلے بھی لکھ چکا ھُوں کہ ایمان کے ذریعے کسی بھی معاملے میں تحقیق جھوٹ کی ملاوٹ لازمی رکھتی ھے۔
۔۔۔
آئیے اب سوالوں کی فہرست بناتے ہیں۔
قران کب بنایا گیا،
قران کب لکھا گیا
قرآن نبی پر اترنے کے دعوے کو ھم چھوڑ دیتے ھیں اور اسے سچ مان لیتے ھیں، تاکہ جھگڑا کھڑا نہ ھو کیونکہ ھمارے پاس کوئی ایسا طریقہ نہیں ھے کہ ھم معلوم کرسکیں کہ واقعی وحی کوئی چیز ھوتی ھے اور محمد پر وحی نازل ھوتی رھی، یا انہوں نے دوسروں کی مدد سے قرآنی آیات تشکیل دیں۔
ھم تحقیق کرتے ھیں کہ
قران کب بنایا گیا۔۔
قرآن کب لکھا گیا
قران کی ترتیب کیا ایسی ھی اتری یا تبدیل ھوئی
قران کی ترتیب کیوں بدلی؟ کس نے بدلی؟ کب بدلی؟
کیا قرانی نسخے جو بھی دریافت ھوئے ھیں ان میں بہت جگہ جو فرق موجود ھے وہ کیا بتاتا ھے؟
ابتدائی قران میں کیا کچھ نہ تھا اور کیا کچھ بعد میں شامل کئے جانے کا امکان ھے؟
پیٹریشیا کرون میری طرح یہ سوال اٹھاتی ھیں کہ۔۔
Patricia Crone, a widely acknowledged expert on early and medieval Islam:wrote !

We can be reasonably sure that the Quran is a collection of utterances that [Muhammad] made in the belief that they had been revealed to him by God … [He] is not responsible for the arrangement in which we have them. They were collected after his death—how long after is controversial!
یعنی ھم شواھد کی مدد سے یہ نتیجہ تو نکال سکتے ھیں کہ قرآنی لکھت محمد کے مطابق اُن پر اترنے والی آیات ہیں، لیکن محمد، اُس ترتیب کے ذمے دار نہیں ہیں جس میں یہ اب موجود ھے !۔۔
یعنی قران کی آیات اور پاروں اور سورتوں کی ترتیب محمد کی بنائی ترتیب کسی صورت نہیں ھوسکتی،،۔۔یہ کب بنائی گئی ؟ کیوں بنائی گئی؟یہ ھے اگلے سوالات !۔۔۔
اوپر کے سوالوں میں سے دوسرے سوال کا جواب کہ قرانی کی یہ ترتیب ممکنہ طور پر کب بنائی گئی کا جواب محققین نے ڈھونڈ لیا ھے اور برمنگھم کے نسخے اور فرانس میں موجود نسخے کے تقابل سےمعلوم ھوتا ھے کہ محمد کی موت کے بعد قران کو ترتیب دیا گیا کیونکہ اس سے پہلے یہ سہولت موجود نہ تھی کہ ھزاروں جانوروں کی کھالوں پر اسے لکھ کر محفوظ کیا جا سکتا ، یہ ھنر پہلے عربوں کے پاس نہیں تھا ، جب عربوں نے پہلے رسول کے اخری وقت اور بعد موت کے دوسرے ممالک پر قابضانہ حملے کئے تو مال و متاع کے ساتھ وھاں سے مختلف ھنر بھی انکے ھاتھ لگے، کھالیں محفوظ کرنے کا ھنر اور محفوظ شُدہ کھالیں مِلیں جن پر لکھا جا سکتا تھا۔کچھ لوگوں نے اپنے طور یہ کام کیا۔لیکن ھر ایک متن مختلف تھا۔ جیسے برمنگھم کے نسخے میں مدینہ مکہ محمد وغیرہ کے بارے کوئی معلومات نہیں ہیں۔
تحقیق کاروں کے نزدیک سب سے پرانا مکمل کے قریب نسخہ عثمانی قران کے طور پر مشہور ھے۔عثمان کا دور محمد کے مرنے کے 20 سال بعد کا دور ھے۔۔
اسی قرآنی نسخے کو تاشقند نسخہ یا ثمرقند نسخہ بھی کہتے ہیں، یہ مسخہ اصلی نسخے کے ایک بٹا تین حصے کے برابر محفوظ ھے۔
دوسرا قرآنی نسخہ صنا نامی نسخہ ہے۔جسکی کاربن ڈیٹنگ 578 سے 669 تک ہے۔۔
۔Results from radiocarbon dating from a Sana Quran parchment
indicate that the parchment has a 68% probability of belonging to the period between AD 614 to AD 656. It has a 95% probability of belonging to the period between AD 578 and AD 669 (Behnam Sadeghi; Uwe Bergmann, “The Codex of a Companion of the Prophet and the Qur’ān of the Prophet,” Arabica, Volume 57, Number 4, 2010, p.348.)

The Sana palimpsest is not only significant because it is one of the oldest Qurans in existence. It’s also significant because the top layer (the text written over what was erased) is the text of the standard Uthmanic version of the Quran. Beneath this standard Uthmanic version (the part that was erased) is a non-Uthmanic version of the Quran.
یہاں اب نہایت ضروری بات یہ ھے اوپری سطح کو مِٹا کر دیکھا گیا کہ نیچے کی سطح پر غیر عثمانی ورژن کا قرآن تھا جسے مِٹا کر اوپر کی سطح پر عثمانی طرز کا قرآن لکھا گیا ھے۔اب یہ سائینسی دریافت ثبوت کے ساتھ موجود ھے۔کوئی مخالفانہ بیان نہیں ھے۔
۔۔۔
اسلامی نکتہ نظر والے محقق اس بارے مندرجہ ذیل رائے رکھتے ھیں۔
Muhammad Mustafa Al-Azami, Professor Emeritus at King Saud University, argues that the following list of manuscripts “have been conclusively dated to the first century A.H.”

  1. A copy attributed to Caliph Uthman bin Affan. Amanat Khizana, Topkapi Saray, Istanbul, no.1.
  2. Another copy ascribed to Uthman bin Affan. Amanat Khizana, Topkapi Saray, no.208. This copy has some 300 folios and it is missing a portion from both ends.
  3. Another ascribed to ‘Uthman bin ‘Aflan. Amanat Khizana, TopkapiS aray, no. 10. It is only 83 folios and contains notes written inthe Turkish language naming the scribe.
  4. Attributed to Caliph ‘Uthman at the Museum of Islamic Art, Istanbul. It lacks folios from the beginning, middle and end. Dr. al-Munaggid dates it to the second half of the first century.
  5. Attributed to Caliph ‘Uthman in Tashkent, 353 folios.
  6. A large copy with 1000 pages, written between 25-31 A.H. at Rawaq al-Maghariba, al-Azhar, Cairo.
  7. Attributed to Caliph ‘Uthman, The Egyptian Library, Cairo.
  8. Ascribed to Caliph ‘Ali bin AbI Talib on palimpsest. Muzesi Kutuphanesi, Topkapi Saray, no. 36E.H.29. It has 147 folios.
  9. Ascribed to Caliph ‘Ali. Amanat Khizana, Topkapi Saray, no.33. It has only 48 folios.
  10. Ascribed to Caliph ‘Ali. Amanat Khizana, Topkapi Saray, no. 25E.H.2. Contains 414 Folios.
  11. Ascribed to Caliph ‘Ali. Raza Library, Rampur, India, no. 1. Contains 343 Folios.
  12. Ascribed to Caliph ‘Ali, San’a’, Yemen.

Quran kept at the al-hussein mosque in Cairo, Egypt. Some believe it goes back to Uthman.
Quran kept at the al-hussein mosque in Cairo, Egypt. Some believe it goes back to Uthman.

  1. Ascribed to Caliph ‘Ali, al-Mashhad al-Husaini, Cairo.
  2. Ascribed to Caliph ‘Ali, 127 folios. Najaf, Iraq.
  3. Ascribed to Caliph ‘Ali. Also in Najaf, Iraq.
  4. Attributed to Husain b. ‘Ali (d. 50 A.H.), 41 folios, Mashhad,Iran.
  5. Attributed to Hasan b. ‘Ali, 124 folios, Mashhad, Iran, no. 12.
  6. Attributed to Hasan b. ‘Ali, 124 folios. Najaf, Iraq.
  7. A copy, 332 folios, most likely from the early first half of the first century. The Egyptian Library, Cairo, no. 139 Masahif.
  8. Ascribed to Khudaij b. Mu’awiya (d. 63 A.H.) written in 49 A.H. Amanat Khizana, Topkapi Saray, no. 44. It has 226 folios.

[#21 is missing in al-Azami’s list.]

  1. A Mushaf in Kufic script penned in 74 A.H. Amanat Khizana, Topkapi Saray, no.2. It has 406 folios.
  2. A copy scribed by al-Hasan al-Basri in 77 A.H. The Egyptian Library, Cairo, no. 50 Masahif.
  3. A copy in the Museum of Islamic Art, Istanbul, no. 358. According to Dr. al-Munaggid it belongs to the late first century.
  4. A copy with 112 folios. The British Museum, London.
  5. A copy with 27 folios. The Egyptian Library, Cairo, no. 247.
  6. Some 5000 folios from different manuscripts at the Bibliotheque Nationale de France, many from the first century. One of them, Arabe 328(a), has lately been published as a facsimile edition.

Al-Azami overstates that these have been “conclusively dated to the first century A.H.” For example, the manuscripts from Topkapi can be dated to the second century A.H. (Islamic Awareness). Several of the manuscripts attributed/ascribed to Uthman probably did not belong to him.

Nevertheless, considering that Muhammad died around 632 AD, these are still old Quran manuscripts.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اوپر ان اسلامی محقق کا دعوی ھے کہ ان مختلف ٹکڑوں میں موجود قرآنی صفحات محمد کی موت کے فوری بعد یا اسی صدی کے قرآنی ٹکڑے ہیں۔
۔۔
اس وقت جو قدیم نسخے کہیں بھی موجود ھیں انکے نام اور تعارف نیچے درج کرتا ھُوں
۔۔۔ پہلا قرآنی نسخہ اسوقت برمنگھم میں موجود ھے۔جو جیسے کہ پہلے بھی بتایا ھے۔ کاربن ڈیٹنگ میں 568 سے 645۔۔۔اور بعض کے مطابق 669 ویں صدی کے قریب ھے۔ اسکی لکھائی حجازی، یا صنا طرز کی ھے۔۔۔

  1. Birmingham Quran Manuscript
    Year Written: c.568 AD – 645 AD
    Language: Arabic
    Script Type: Hijazi
    Current Location: University of Birmingham, Birmingham, England

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

دوسرا نسخہ جرمنی مین موجود ھے۔ یہ بھی حجازی یا صنا لکھائی میں لکھا گیا ھے۔۔

  1. Tübingen Fragment
    Year Written: c. 649 AD – 675 AD
    Language: Arabic
    Script Type: Hijazi Current Location: University of Tübingen, Tübingen, Germany
    The manuscript has been in the university’s possession since the 19th century when first Prussian Consul to Damascus, Johann Gottfried Wetzstein, acquired several ancient Arabic manuscripts. The research into the fragment’s age was conducted as part of a project funded by the German Research Society (DGF) and the corresponding French institution: Agence National de la recherché (ANR).
    یاد رھے کہ کاربن ڈیٹنگ کی سچائی 95 فیصد تک ھوتی ھے۔

تیسرا قرآنی نسخہ یمن سے مِلا اور صنا کہلاتا ھے۔

  1. Sana’a Manuscript
    Year Written: c.671 AD
    Language: Arabic
    Script Type: Hijazi
    Current Location: Great Mosque of Sana’a, Yemen
    ۔۔۔۔۔
    چوتھا قرانی نسخہ
    پیریسینو پیٹروپولیٹینس کہلاتا ھے۔
    ساتوین یا آٹھویں صفی عیسوی میں لکھاگیا۔۔ اور لکھائی حجازی ہے۔۔ساٹھ اوراوراق پر مشتمل ہے۔اور لندن ویٹیکن کے خلیلی نواردات میں موجود ھے۔۔
  2. Codex Parisino-Petropolitanus
    Year Written: c. late 7th to early 8th century
    Language: Arabic
    Script Type: Hijazi
    Current Location: 70 folios at Bibliothèque nationale de France, Paris; 26 folios at the National Library of Russia in Saint-Petersburg, Russia; 1 folio in the Vatican Library; and 1 folio in Khalili Collection in London

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
پانچواں قرآنی نسخہ کُوفی لکھائی میں ہے اور اس کے بارے غلط مشہور رہا کہ سب سے پرانا قرآنی نسخہ ہے۔۔اس کی کاربن ڈیٹنگ سے یہ 8 ویں صدی کے بعد کا نسخہ ھے۔اور ترکی کے عجائب گھر میں موجود ھے۔

  1. Topkapi Manuscript
    Year Written: c. early to mid 8th century
    Language: Arabic
    Script Type: Kufic
    Current Location: Topkapi Palace Museum, Istanbul, Turkey
    ۔۔۔۔
    چھٹا قرآنی نسخہ ازبکستان میں موجود ھے اور ترکی کے نسخے کی طرح ایمان لانے والے اسے سب سے قدیم سمجھتے تھے مگر یہ بھی 9 ویں صدی کے قریب کا لکھا گیا نسخہ ھے۔
  2. Samarkand Kufic Quran (Uthman Quran)
    Year Written: c.765 AD – 855 AD
    Language: Arabic
    Script Type: Kufic
    Current Location: Hast Imam Library, Tashkent, Uzbekistan
    ۔۔۔
  3. Blue Quran نیلا قران نمبر سات،،،،
    Year Written: c. late 9th century to early 10th century نویں اور دسویں صدی میں لکھا گیا۔
    Language: Arabic
    Script Type: Kufic اسکا رسم الخط کُوفی ھے۔
    Current Location: Most of it is located in the National Institute of Art and Archaeology Bardo National Museum in Tunis, Tunisia; 67 folios in the Musée de la Civilisation et des Arts Islamiques in Raqqada, Tunisia; 1 folio at the Los Angeles County Museum of Art in California, USA; and the other folios are scattered worldwide at various museums
    یہ نسخہ تیونس میں محفوظ ھے۔
    ،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،،
    سُنی فرقے والے یہ مانتے ہیں کہ قران ابوبکر کے زمانے میں لکھا گیا جو کہ 632 سے 634 کا زمانہ ھے۔۔
    تاھم محققین متفق ھیں کہ عثمان کے دور میں جو قرآن عثمان کی نگرانی میں ترتیب دیا گیا وُہ ھی بچا رھا اور باقی مختلف و متعدد نسخے جلانے کا حکم دے دیا گیا تھا۔

جبکہ ایک معروف ترین محقق جون وانزبرگ کے مطابق قرآن کی ترتیب محمد کی موت کے 200 بعد کہیں جا کر قائم کی گئی۔
صناع ، مخطوطے کے بےشمار ٹکڑوں پر لکھے گئے ٹیکسٹ میں 5000 مختلف تبدیلیاں پائی گئیں ھیں۔
جس سے معلوم ھوتا ھے کہ عثمان کے زمانے تک کوئی جاری سکرپٹ موجود نہیں تھا مختلف اسلوب ملے جلے تھے۔۔
گرڈ پیوئن نامی ایک ماھر نوادرات و قدیمی مخطوطات کو یمن کی حکومت نے ایک بہت لمبا پروجیکٹ دیا تھا جس میں یمنی قرآن کے پندرہ ھزار صفحات کو ایک ایک لفظ پڑھ کر پرکھ کر بہتر کرنا شامل تھا۔اسکے کام اور تحقیق سے ابن وراق نامی سکالر نے قرآن پر کافی مواد لکھ رکھا ھے۔ جسمیں میں نے اسلام کیوں ترک کیا بھی شامل ھے۔
ماھر ِ مخطوطات گرڈ پیوئن کے بقول اسنے جو نتائج اب تک نکالے ھیں وہ یہ ھیں
،،،
میرا نظریہ یہ ھےکہ قرآن اصل میں بہت سارے اقوال و بیانات و کہانیوں کا ایسا مجموعہ ھے جسے محمد کے دور میں بھی ٹھیک اور مکمل سمجھا نہیں گیا تھا۔
لکھے ھوئے کلمات اسلام سے بھی کئی سو سالوں پرانے معلوم ھوئے ھیں۔
خود اسلام چلن کے اندر بہت زیادہ متضاد خیالی و متضاد اعمالی پائی جاتی ھے۔
قرآن خود کو کہتا ھے کہ و شفاف، واضح، اور مبین و کُھلا کُھلا ھے، لیکن ھر پانچواں چھٹا کلمہ بے تُکا معلوم ھوتا ھے۔
اندازے کے مطابق قران کا پانچواں حصہ بے معنی و بے تعلقی کا شکار ھے۔اور اسی وجہ سے ھمیشہ سے قرآنی آیات کی تشریح میں شدید اختلافات ھیں جو مبین اور کُھلا کُھلا ھونے کے خلاف دلیل ھے۔اگر اسکو عربی مین بھی ایسی دقت سے سمجھنے کا سوال اٹھتا ھے تو پھر اسے ترجمہ نہیں کیا جا سکتا۔
جو اسکے خود اٹھائے گئے نکتے کہ قران شفاف ھے۔ واضح ھے خواہ مچھر جتنی چھوٹی بات بھی ھو کھول کھول کر بیان کرتا ھے۔ تو خود عربی علما بھی تذبذب کا شکار ھوتے ھیں، جس سے قرآن کی سچائی پر کافی اعتراضات اٹھتے ھیں، جبکہ ایمان لے انے والوں کو آیات کی جو بھی تشریح سمجھائی جاوے وہ اس پر مطمئن رھیں گے،

۔جیسے قرانی حروف مقطعات کا مسئلہ ھے آجتک کوئی بھی ان کی کوئی واضح توجیہہ اور مطالب نہیں بتا سکتا۔
اسکی سب سے بڑی وجہ یہ ھے کہ ان کوڈ ورڈز کو اُس پرانے زمانے میں شاید سمجھا جاتا ھو لیکن اسلامی تاریخ میں ان حروف کو اُس وقت بھی نہ سمجھا گیا کے موضوع پر احادیث موجود ھیں،،
اغلب خیال یہ ھے کہ چونکہ محمد نے اپنی تحریک کو وسیع کرنے کے لئے دوسروں کو ساتھ مِلانا تھا تو اسی غرض سے انہوں نے یہودیوں، انصاریوں، ، مُشرکوں، عیسائیوں وغیرہ کو خوش کرنے کے لئے ایسے مشترک الفاظ قرآن میں شامل کروائے جن سے اُن گروھوں کی پزیرائی اور نمائیندگی بھی ھو جائے۔
بعض آیات کے منسوخ ھونے کا ذکر بھی تاریخ میں ملتا ھے جس سے پتہ چلتا ھے۔اُن آیات کے بنانے کا مقصد پورا نہ ھونے کی وجہ سے اُنہیں نکال دیا گیا۔
قران کے حروفِ مقطعات، کافروں ، یہودیوں اور مختلف گروھوں کو ساتھ ملانے کے لئے بنائے گئے۔۔کہ دیکھو آپکی ریپریزینٹیشن بھی ھے۔ جیسے الف لام میم۔۔۔ میں پہلے خدا کی ان بیٹیوں کے ناموں کو بعینہُ استعمال کرنے کی بجائے
اعزی ،،الف
لات،،،لام
منات۔۔۔میم۔۔۔۔
بنائے گئے۔۔۔ آیات کی منسوخی ، والے واقعات اسی جانب روشنی ڈالتے ھیں۔جب مخصوص گروہ ان آیات پر راضی نہ ھوئے۔ اسلام کے ابتدائی دنوں میں یہ کوششین رھیں کہ جیسے ممکن ھو سب کو شامل کیا جائے۔۔۔کیونکہ قرآن بنانے والے مصنفین وغیرہ کی ٹیم دوسرے قریبی اور دور کے ممالک کے حالات ، ٹریڈ ٹُورز کے سبب جانتے تھے۔۔اور اس خطے میں بھی قبائل کو جور کر کوئی اتحادی ریاست بنانا چاھتے تھے۔اس لئے پہلے بظاھر مشرکین جو کبھی مشرکین نہیں تھے کو ساتھ ملنے کے لئے کوششین کی گئین۔ اور انکی دلچسپی کے نام شامل کئے گئے۔۔پھر۔۔۔ یہودیوں کو شامل کرنے کے لئے موسی کی تعظیم کی گئی۔۔پھر عیسی کی تعظیم کی گئی کہ عیسائی شامل ھوں۔اگر اسلام پہلے انبیا کو جھوٹا کہتا تو عیسائی یہودی لوگوں میں سے وہ جو ھمہ وقت روحانی تبدیلی کی خواھش رکھتے ھین کم تعداد مین اسلام میں شامل ھوتے۔۔یہ بات غور کر کے سمجھی جا سکتی ھے۔
۔۔۔
سب سے بڑی دلیل جس کا کوئی جواب کسی اھل ایمان کی طرف سے شافی طور پر نہیں دیا جا سکتا وہ یہ ھے۔۔کہ قران اپنے بارے کہتا ھے کہ ۔۔ ھم چھوٹی سے چھوٹی بات کھول کھول کر بیان کرتے ھیں۔تاکہ مخاطب یہ نشانیاں سمجھ سکیں۔۔ لیکن آپ انکے معانی نہ سمجھتے ھیں نہ مسجھا سکتے ھیں۔ اور پڑھے جاتے ھیں جیسے کوئی منتر تنتر ھوں
2000 سال کے بعد بھی یہ حروف مقطعات کا نہ سمجھا جانا اور پھر ایک دو نام نہاد لبرل جدید و قدیم بزرگان کی جادوگری سے کوئی نہ کوئی معنی ان سے برآمد کرنے کی کسی بھی کوشش پر اھل ِ ایمان کا خوش ھونا تو بالکل منطقی ھے۔ کہ اھلِ ایمان ھر اُس بات کو سراھنے میں خوشی محسوس کرتے ھیں جو اس زمانے میں انکے مذھب کی اچھائی ثابت ھو۔۔۔ خواہ وہ۔۔۔چین سے علم پانے کی جھوٹی حدیث ھو۔۔۔ یا صفائی نصف ایمان کا عملی مظآھرہ فی المعاشرت الاسلامیہ ھو۔۔۔۔۔۔۔۔بالکل ایسے جیسے علی مشکل کُشا کو اپنے قتل سے بچاؤ کا علم تھا نہ ملکہ۔۔۔لیکن وہ دوسروں کے لئے مشکل کُشا ہیں۔
جب قرآن کہتا ھے وہ دنیا میں بھی فلاح پائیں گے اور آخرت میں بھی تو۔۔۔ تین خلیفہ تو قتل ھوئے اور بہت ذلیل طریقے سے مارے گئے۔۔ عائشہ کی اولاد تک نہ ھوئی۔۔بیوگی میں زندگی گزری۔۔۔پتہ نہیں کونسی فلاح تھی۔۔۔ جنگ جمل میں علی و عائشہ آمنے سامنے تھے۔۔۔
al-Baqarah ʾAlif Lām Mīm الم
Āl Imrān ʾAlif Lām Mīm الم
al-Aʿrāf ʾAlif Lām Mīm Ṣād المص
Yūnus ʾAlif Lām Rā الر
Hūd ʾAlif Lām Rā الر
Yūsuf ʾAlif Lām Rā الر
Ar-Raʿd ʾAlif Lām Mīm Rā المر
Ibrāhīm ʾAlif Lām Rā الر
al-Ḥijr ʾAlif Lām Rā الر
Maryam Kāf Hā Yā ʿAin Ṣād كهيعص
Ṭā Hā Ṭā Hā طه
ash-Shuʿārāʾ Ṭā Sīn Mīm طسم
an-Naml Ṭā Sīn طس
al-Qaṣaṣ Ṭā Sīn Mīm طسم
al-ʿAnkabūt ʾAlif Lām Mīm الم
ar-Rūm ʾAlif Lām Mīm الم
Luqmān ʾAlif Lām Mīm الم
as-Sajdah ʾAlif Lām Mīm الم
Yā Sīn Yā Sīn يس
Ṣād Ṣād ص
Ghāfir Ḥā Mīm حم
Fuṣṣilat Ḥā Mīm حم
ash-Shūrā Ḥā Mīm; ʿAin Sīn Qāf حم عسق
Az-Zukhruf Ḥā Mīm حم
Al Dukhān Ḥā Mīm حم
al-Jāthiya Ḥā Mīm حم
al-Aḥqāf Ḥā Mīm حم
Qāf Qāf ق
Al-Qalam Nūn ن
۔۔
اب دیکھیں جن مسلمان علما نے کچھ ڈھونڈ لانے کی ٹھانی تو کیا ڈھونڈا
«الم» جیسے حروف مقطعات ہیں جو سورتوں کے اول میں آئے ہیں۔ ان کی تفسیر میں مفسرین کا اختلاف ہے بعض تو کہتے ہیں ان کے معنی صرف اللہ تعالیٰ ہی کو معلوم ہیں اور کسی کو معلوم نہیں۔ اس لیے وہ ان حروف کی کوئی تفسیر نہیں کرتے۔ قرطبی رحمہ اللہ نے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی، سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہم اجمعین سے یہی نقل کیا ہے۔ عامر، شعبی، سفیان ثوری، ربیع بن خیثم رحمہم اللہ بھی یہی کہتے ہیں ابوحاتم بن حبان رحمہ اللہ کو بھی اسی سے اتفاق ہے۔
بعض لوگ ان حروف کی تفسیر بھی کرتے ہیں لیکن ان کی تفسیر میں بہت کچھ اختلاف ہے۔ عبدالرحمٰن بن زید بن اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ سورتوں کے نام ہیں۔ علامہ ابوالقاسم محمود بن عمر زمحشری رحمہ اللہ اپنی تفسیر میں لکھتے ہیں اکثر لوگوں کا اسی پر اتفاق ہے۔ سیبویہ نے بھی یہی کہا ہے اور اس کی دلیل بخاری و مسلم کی وہ حدیث ہے جس میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن صبح کی نماز میں «الم السجدة» اور «هَلْ أَتَىٰ عَلَى الْإِنْسَان» پڑھتے تھے ۔ [صحیح بخاری:891] ‏‏‏‏
مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں «الم» اور «حم» اور «المص» اور «ص» یہ سب سورتوں کی ابتداء ہے جن سے یہ سورتیں شروع ہوتی ہیں۔ انہی سے یہ بھی منقول ہے کہ «الم» قرآن کے ناموں میں سے ایک نام ہے۔ قتادہ اور زید بن اسلم رحمہ اللہ علیہم کا قول بھی یہی ہے اور شاید اس قول کا مطلب بھی وہی ہے جو عبدالرحمٰن بن زید اسلم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ سورتوں کے نام ہیں اس لیے کہ ہر سورت کو قرآن کہہ سکتے ہیں اور یہ نہیں ہو سکتا کہ سارے قرآن کا نام «المص» ہو کیونکہ جب کوئی شخص کہے کہ میں نے سورۃ «المص» پڑھی تو ظاہر یہی سمجھا جاتا ہے کہ اس نے سورۃ الاعراف پڑھی نہ کہ پورا قرآن۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ شعبی، سالم بن عبداللہ، اسماعیل بن عبدالرحمٰن، سدی کبیر رحمہ اللہ علیہم یہی کہتے ہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ «الم» اللہ تعالیٰ کا بڑا نام ہے۔ اور روایت میں ہے کہ «حم»، «طس» اور «الم» یہ سب اللہ تعالیٰ کے بڑے نام ہیں۔ سیدنا علی اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما دونوں سے یہ مروی ہے۔
ایک اور روایت میں ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی قسم ہے اور اس کا نام بھی ہے۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ قسم ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ اس کے معنی «أَنَا اللَّهُ أَعْلَمُ» ہیں یعنی ”میں ہی ہوں اللہ زیادہ جاننے والا“۔ حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے بھی یہ مروی ہے۔
سیدنا ابن عباس، سیدنا ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضی اللہ عنہم سے روایت ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کے ناموں کے الگ الگ حروف ہیں۔ ابوالعالیہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ یہ تین حرف «الف» اور «لام» اور «میم» انتیس حرفوں میں سے ہیں جو تمام زبانوں میں آتے ہیں۔ ان میں سے ہر ہر حرف اللہ تعالیٰ کی نعمت اور اس کی بلا کا ہے اور اس میں قوموں کی مدت اور ان کے وقت کا بیان ہے۔
عیسیٰ علیہ السلام کے تعجب کرنے پر کہا گیا تھا کہ وہ لوگ کیسے کفر کریں گے ان کی زبانوں پر اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ اس کی روزیوں پر وہ پلتے ہیں۔ «الف» سے اللہ کا نام، «الله» شروع ہوتا ہے اور «لام» سے اس کا نام «لطیف» شروع ہوتا ہے اور «میم» سے اس کا نام «مجید» شروع ہوتا ہے اور «الف» سے مراد «آلَاء» یعنی نعمتیں ہیں اور «لام» سے مراد اللہ تعالیٰ کا «لُطْف» ہے اور «میم» سے مراد اللہ تعالیٰ کا «مَجْد» یعنی بزرگی ہے۔ «الف» سے مراد ایک سال ہے «لام» سے تیس سال اور «میم» سے چالیس سال۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:28/1] ‏‏‏‏
امام ابن جریر رحمہ اللہ نے ان سب مختلف اقوال میں تطبیق دی ہے یعنی ثابت کیا ہے کہ ان میں ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ ہو سکتا ہے یہ سورتوں کے نام بھی ہوں اور اللہ تعالیٰ کے نام بھی، سورتوں کے شروع کے الفاظ بھی ہوں اور ان میں سے ہر ہر حرف سے اللہ تعالیٰ کے ایک ایک نام کی طرف اشارہ بھی، اور اس کی صفتوں کی طرف اور مدت وغیرہ کی طرف بھی ہو۔ ایک ایک لفظ کئی کئی معنی میں آتا ہے۔
بات نکلے گے تو پھر دور تلک جائے گی۔۔۔۔ لبرل یا دھریہ یا پہلے جو مسلمان ھوتے تھے۔۔۔ایسے لوگ جناب غامدی صاحب کے بیانات سےخوش ھوتے ھیں۔
کہ دیکھو جی اسلام کا کتنا چھا چہرہ سامنے لاتے ھیں۔
لیکن سوال تو یہ ھے کہ پچھلے 30 سال سے وہ یہی کرتے ھوئے کتنے شدت پسند مسلمانوں، اور طالبان۔۔اور ختم نبوت کے فسادیوں،،،وغیرہ کو اپنے جیسا بےضرر مسلمان بنا سکے ھیں؟؟
سوال تو کرنا ھی ھوگا کہ انکی اس مسلسل کوشش اور انکے مسلسل کتابی لیکچرز ور ویڈیوز سے انکی فاونڈیشن تو چل گئی لیکن زمینی حقائق کیا ھیں؟ کونسی بستی ھے جس میں مسلمان پہےل سے بہتر ھوئے اور رحمت کا نمونہ بن گئے؟
جب غامدی جی سے پوچھا جائے کہ حور کا لالچ کیوں؟ تو ھنس دیتے ھیں۔۔ بات گول کر دیتے ھیں۔۔ ڈھکے انڈوں والی آنکھوں والی عورتوں کو حور کہا جاتا ھے جی۔۔وہ اصلی نہیں ھونگی۔بس خیال ہی ھے۔۔یا آپکی بیویاں ھی ھونگی۔۔حالنکہ صاف لکھا ھے۔۔۔ لم یطمس ھُن۔۔۔وہ کنواری عورتیں ھونگی جنکی آنکھیں بڑی بڑی غلافی ھونگی۔۔۔عرب میں ھمیشہ سے بڑی آنکھوں والی عورتوں کو پسند کیا جاتا ھے۔۔میک اپ بھی ایسا کیا جاتا ھے کہ آنکھیں بڑی بڑی لگیں،،،تو ایک ربڑ کو آپ کتنا کھینچ سکتے ھیں؟
جب پڑھے لوگ کہین کہ دیکھو جی علی نے کہا تھا کہ ایک ذرہ پھٹ جائے تو کائنات پھٹ جائے ۔۔یہ اٹامک فشن کا علم علی کو تھا۔۔۔۔ تو کیا واقعی علی کو یہ علم تھا؟ کیا واقعی علی کو سائینسی مساوات سے معلوم تھا یا ابو طالب نے میتھ سکھایا تھا یا اللہ نے کوئی فشکس کا فرشتہ انکے لئے ایسے روز علم لاتا تھا جیسے طاھر القادری 40 سال سے کسی بزرگ کی کلاس میں جاتے ھیں۔ اور پھر کافرون کی گود میں کینیڈا میں امن پاتے ھیں۔امان پاتے ھیں۔۔۔اور غامدی جی ملائیشیا میں جان بچاتے ھیں۔
اور اس جملے سے انسانیت کو کیا فائدہ ؟ کہ
من کنت مولاہ فھذا علی مولاہ
۔۔۔
2000 سال سے یہی بتایا جاتا ھے کہ ان حروف کے معانی اللہ کو ھی معلوم ھیں۔۔زیادہ چالاک لوگ کہتے ھیں کہ اللہ انکے معانی کسی آنے والے زمانے میں کھولے گا۔۔
جاری فتوی میں سے ایک کے مطابق
بسم الله الرحمن الرحيم
Fatwa : 1129-1050/SN=1/1440
”الٓم“ ”عسق“ ”حم“ ”یس“ وغیرہ حروفِ مقطعات کہلاتے ہیں، ان کے متعلق جمہور صحابہ و تابعین اور علمائے امت کے نزدیک راجح یہ ہے کہ یہ حروف رموز اور اسرار ہیں، جس کا علم سوائے خدا تعالی کے کسی کو نہیں ، اور ہو سکتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم بطور ایک راز دیا گیا ہو جس کی تبلیغ امت کے لئے روک دی گئی، اس لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ان حروف کی تفسیر و تشریح میں کچھ منقول نہیں (معارف القرآن) اس لئے آپ ان الفاظ کے معانی اور تفصیلات کے درپے نہ ہوں۔ حروف مقطعات کے سلسلے میں مزید تفصیل کے لئے معارف القرآن (۱/۱۰۶، ۱۰۷) کا مطالعہ کریں۔
واللہ تعالیٰ اعلم
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی اللہ نے قران اتارا نبی پر۔۔۔اور نبی نے اللہ سے مطلب نہ پوچھا کہ بھائی جان۔۔۔اسکا مطلب بھی تو میں نے لوگوں کو سمجھانا ھے وہ بھی بتائیے۔۔۔ پر اللہ نے کہا۔۔۔تُو کہ۔۔۔ میں اللہ خوب جاننے والا ھوں۔۔ایک تو بات بات پر اللہ یہی کہتا ھے کہ میں اللہ خوب جاننے والا ھوں درست جواب کیوں نہیں دیتا کہ پھڈا ھی نہ ھو۔۔جھگڑا ھی نہ پڑے۔؟ مہدی کے بارے کچھ نہیں کہا۔۔صاف کہتا ھے مہدی انا ھے یا نہیں آنا ھے۔۔۔۔چکر بازی کیوں؟
نماز کی حکم کوئی 89 بار دیا۔۔۔ لیکن پڑھنے کا طریق نہیں بتایا ؟کیوں؟ کوئی بھی مسلمان جواب گھڑے گا کہ نماز تو رسول جی پڑھتے تھے اس لئے یہ سب کو معلوم تھا۔۔۔اس لئے بیان کرنے کی ضرورت نہ تھی۔۔نہ ھے۔۔۔واہ کیسا جواب ھے۔۔۔73 فرقے۔۔۔ ھر ایک کہتا ھے حدیث و روایت میں نماز ایسے پڑھنی ھے۔۔ شیعوں کی نماز سنیوں دیو بندیوں احمدیوں کے لئے پتھروں ٹھیکریوں سے ٹکر مارنے والی احمقانہ نماز ھے۔۔غرض ھر ایک کا اپنا انداز و تشریح ھے اللہ کو مسلمانوں کے بیچ جھگڑا کرانے کا شوق کیوں ھے؟؟
اب دیکھئیے۔۔۔ کہ تفسیر کرنے والے آپس میں ھر بات پر راضی نہیں۔۔۔کچھ پر راضی ھیں۔۔اور دور دور کی کوڑی لاتے ھیں۔۔جیسے۔۔۔کسی ایمان لانے والے کی تشفی کےلئے کتنی بظاھر خوش امید تصویر تشریح پیش کی گئی ھے۔۔دیکھیں۔۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کے اس فرمان پر ہم کہہ سکتے ہیں کہ ابوالعالیہ رحمہ اللہ نے جو تفسیر کی ہے اس کا مطلب تو یہ ہے کہ یہ ایک لفظ، ایک ساتھ، ایک ہی جگہ ان سب معنی میں ہے اور لفظ امت وغیرہ جو کئی کئی معنی میں آتے ہیں جنہیں اصطلاح میں الفاظ مشترکہ کہتے ہیں۔ ان کے معنی ہر جگہ جدا جدا تو ضرور ہوتے ہیں، لیکن ہر جگہ ایک ہی معنی ہوتے ہیں جو عبارت کے قرینے سے معلوم ہو جاتے ہیں ایک ہی جگہ سب کے سب معنی مراد نہیں ہوتے اور سب کو ایک ہی جگہ محمول کرنے کے مسئلہ میں علماء اصول کا بڑا اختلاف ہے اور ہمارے تفسیری موضوع سے اس کا بیان خارج ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
دوسرے یہ کہ امت وغیرہ الفاظ کے معنی بہت سارے ہیں اور یہ الفاظ اسی لیے بنائے گئے ہیں کہ بندش کلام اور نشست الفاظ سے ایک معنی ٹھیک بیٹھ جاتے ہیں لیکن ایک حرف کی دلالت ایک ایسے نام پر ممکن ہے جو دوسرے ایسے نام پر بھی دلالت کرتا ہو اور ایک کو دوسرے پر کوئی فضیلت نہ ہو نہ تو مقدر ماننے سے، نہ ضمیر دینے سے، نہ وضع کے اعتبار سے اور نہ کسی اور اعتبار سے ایسی بات علمی طور پر تو نہیں سمجھی جا سکتی البتہ اگر منقول ہو تو اور بات ہے لیکن یہاں اختلاف ہے اجماع نہیں ہے اس لیے یہ فیصلہ قابل غور ہے۔
اب بعض اشعار عرب کے جو اس بات کی دلیل میں پیش کئے جاتے ہیں ایک کلمہ کو بیان کرنے کے لیے صرف اس کا پہلا حرف بول دیتے ہیں۔ یہ ٹھیک ہے لیکن ان شعروں میں خود عبارت ایسی ہوتی ہے جو اس پر دلالت کرتی ہے۔ ایک حرف کے بولتے ہی پورا کلمہ سمجھ میں آ جاتا ہے لیکن یہاں ایسا بھی نہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
قرطبی رحمہ اللہ کہتے ہیں ایک حدیث میں ہے کہ جو مسلمان کے قتل پر آدھے کلمہ سے بھی مدد کرے [سنن ابن ماجہ:2620، قال الشيخ الألباني:ضعيف جدا] ‏‏‏‏ مطلب یہ ہے کہ «اقْتُلْ» پورا نہ کہے بلکہ صرف «إِقْ» کہے مجاہد رحمہ اللہ کہتے ہیں: سورتوں کے شروع میں جو حروف ہیں مثلاً «ق»، «ص»، «حم»، «طسم الر» وغیرہ یہ سب حروف «هِجَا» ہیں۔
بعض عربی دان کہتے ہیں کہ یہ حروف الگ الگ جو اٹھائیس ہیں ان میں سے چند ذکر کر کے باقی کو چھوڑ دیا گیا ہے جیسے کوئی کہے کہ میرا بیٹا «ا ب ت ث» لکھتا ہے تو مطلب یہ ہوتا ہے کہ یہ تمام اٹھائیس حروف لکھتا ہے لیکن ابتداء کے چند حروف ذکر کر دئیے اور باقی کو چھوڑ دیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:208/1] ‏‏‏‏
سورتوں کے شروع میں اس طرح کے کل چودہ حروف آئے ہیں «ا ل م ص ر ك ہ ي ع ط س ح ق ن» ان سب کو اگر ملا لیا جائے تو یہ عبارت بنتی ہے۔ «نَصٌّ حَكِيمٌ قَاطِعٌ لَهُ سِرٌّ» تعداد کے لحاظ سے یہ حروف چودہ ہیں اور جملہ حروف اٹھائیس ہیں اس لیے یہ پورے آدھے ہوئے بقیہ جن حروف کا ذکر نہیں کیا گیا ان کے مقابلہ میں یہ حروف ان سے زیادہ فضیلت والے ہیں اور یہ صناعت تصریف ہے ایک حکمت اس میں یہ بھی ہے کہ جتنی قسم کے حروف تھے اتنی قسمیں باعتبار اکثریت کے ان میں آ گئیں یعنی مہموسہ مجہورہ وغیرہ۔ سبحان اللہ ہر چیز میں اس مالک کی حکمت نظر آتی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اب ان دلائل اور ابحاث کے بعد بنیادی سوال کی جانب لوٹتے ھین کہ موجودہ دور کے بظاھر بڑے لبرل مسلمان سکالرز اس مذھبی وکٹ پر کس جانب شاٹس کھیلتے ھیں۔۔جیسے غامدی صاحب اور پروفیسر رفیق اختر صاحبان نے اسلامی کتب کا مطالعہ کر کے ان میں سے ممکنہ دلائل کو ترجمہ کر کے جدید ذرائع انٹرنیٹ وغیرہ پر پیش کرنے کا جو سلسلہ شروع کیا ھے اس سے لوگوں میں یہ غلط تاثر پھیلتا ھےکہ جیسے یہ اصحاب خود کسی تحقیق کے نتیجے میں کوئی سائینسی منطقی دلائل لے آئے ھوں جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں ھے۔۔ ان دونوں اصحاب نے ھمیشہ پرانی اسلامی کتب سے حوالہ جات دئیے ھیں اور کوئی نئی بات نہیں کہ ھے۔ غامدی جی تو خود امین اصلاحی کے شاگرد ھیں اور انہیں کے اقوال و اعتقاد و تفاسیر سے متاثر ھیں۔
قران کے حروفِ مقطعات، کافروں ، یہودیوں اور مختلف گروھوں کو کرنے کے لئے بنائے گئے۔۔کہ دیکھو آپکی ریپریزینٹیشن یا نمائیندگی بھی ھے۔ جیسے الف لام میم۔۔۔ میں اسلامی خدا ، اپنے سے منسوب ان بیٹیوں کے ناموں کو بعینہُ استعمال کرنے کی بجائے حروف مقطعات استعمال کر کے اُس گروہِ مشرکاں کو ساتھ ملانے کی کوشش کرتا ھے۔
بالکل ایسے ھی کوئی بھی مذھبی ھمیشہ
ہمیشہ اپنے عقیدے کو سچا ثابت کرنے کے دلائل ڈھونڈتا ھے۔مطلق سچائی کی جانب نہیں چلتا۔ یہ لازمی فرق ایک متکلم اور فلسفی کے بیچ ھوتا ھے جو ملحوظ رھے
اب یہ بحث ختم ھو جانی چاھئیے کہ قران کیا کسی خدا نے اتارا یا بنایا یا ترتیب دیا گیا۔کیونکہ ماننے والے نے کسی طرح بھی یہ نہیں ماننا کہ قرآن کی ترتیب بدلتی رھی، الفاظ بدلتے رھے،،، متن بدلتا رھا، موضوعات بھی بدلے،،کیونکہ اس سے خدائی ؤھی اور قرآنی حفاظت کے وعدے پر سوال اتھے گا اور ایمان باطل ھو جائے گا۔۔یہ مجبوری ھے۔
،،،
رفیع رضا

ہم جنس پسندی کی تاریخ

سعودی عرب کے سابق گرینڈ مفتی شیخ عبدالعزیز بن باز کے شاگرد رشید، ڈاکٹر سلمان العودہ نے ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم جنس پسندی کی اس دنیا میں کوئی سزا نہیں ہے اور ہم جنس پسند اس فعل کی وجہ سے اسلام سے خارج نہیں ہوتے- ان کے مطابق اس جرم کی شرعی سزا جو کہ سنگسار کیا جانا ہے، بذات خود لواطت سے بڑا جرم ہے۔

A Byzantine ancestor to same-sex marriage?


اسی طرح عرب سپرنگ کا آغاز کرنے والے ملک، تیونس کے٨٠ سالہ مفکر راشد الغنوشی نے بھی ایک انٹرویو میں بتایا، "ہم جنس پسندی کو ممنوع قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ یہ ذاتی پسند ناپسند کا معاملہ ہے- ان کے مطابق ہم جنس پسندی ایک نجی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں قانون کا اختیار نہیں ہونا چاہیے چنانچہ اسے جرم نہیں ہونا چاہیے۔

مردوں میں ہم جنس پسندی کی تاریخ نسلوں کی بجائے صدیوں تک پھیلی ہوئی ہے۔ عربی زبان میں اسے لواطت اور انگریزی میں sodomy کہتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان دونوں ہی اصلاحات میں مذہب کا دخل ہے۔ عربی کا لواطت پیغمبر لوط کے نام سے مشتق ہے جب کہ انگریزی sodomy موجودہ اسرائیل میں بحیرہ مردار کے جنوب مغربی کنارے پر واقع جبل سدوم (Mount Sodom) سے ماخوذ ہے۔

حالانکہ موجودہ دور میں سدوم نام کی کوئی آبادی وہاں موجود نہیں ہے مگر عہدنامہ عتیق (تورات عظیم) اور عہدنامہ جدید (انجیل مقدس) سدوم شہر کی تباہی کی تفصیل دی گئی ہے (دنیا کے تمام مذاہب قابل تعظیم ہیں)۔ یہ وہی شہر ہے جہاں قرآن حکیم نے پیغمبر لوط کی رہائش اور ان کی قوم پہ عذاب کا بتایا ہے حالانکہ اس شہر کے نام کا حوالہ قرآن حکیم میں نہیں دیا گیا۔ اسلام سے پہلے کی ابراہیمی کتابوں میں پیغمبر لوط کا ذکر بہت محدود سا ہے جبکہ قرآن پاک میں پیغمبر لوط کا ذکر نسبتا تفصیل سے آیا ہے۔

جب بھی ہم جنس پسندی کی بات آتی ہے تو عمومی طور پر مردوں کے ہی جنسی رویے کی بات کی جاتی ہے مگر یہ جنسی رویہ عورتوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ عورتوں کے اس جنسی رجحان کو انگریزی زبان میں (Lesbianism) کہا جاتا ہے۔ یہ لفظ یونانی جزیرے (Lesbos) اخذ کیا گیا ہے۔ اس جزیرے کی وجہ شہرت مشہور یونانی شاعرہ سیفو ہیں جنہوں نے معلوم تاریخ میں پہلی بار اہنی محبوبہ کے بارے میں جذباتی شاعری مرتب کی (شاعری لکھی نہیں جاتی بلکہ ترتیب دی جاتی ہے)۔

اس طرح کے جنسی رویے کو عجیب سمجھا جاتا رہا ہے کیونکہ جنسی عمل کے متعلق عام غلط فہمی اس کے لیے ذمہ دار ہے۔ یہ اس لیے بھی ناقابل قبول لگتا ہے کیونکہ جنسی عمل کو صرف افزائش نسل کے لیے مخصوص سمجھا جاتا ہے جب کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ زمین پہ پائی جانے ذہین ترین مخلوقات (انسان، چمپینزی اور ڈولفن) جنسی عمل تسکین کے حصول کے لیے کرتے ہیں (جس کی وجہ سے کبھی کبھی بچے بھی پیدا ہو جاتے ہیں ورنہ ان کے سیکس کی فریکوئینسی کی نسبت سے ان کی آبادی کو بےقابو ہو جانا چاہیے) یہی وجہ ہے کہ دیگر تمام جانداروں کے جنسی عمل اور نئے بچے پیدا ہونے کا ایک خاص موسم ہوتا ہے جبکہ ان ذہین مخلوقات کے بچے سارا سال پیدا ہوتے رہتے ہیں۔

بنیادی طور پر ہم جنس پسند رویے کا تعلق بھی جنسی لذت سے ہوتا ہے جو کہ ایک انتہائی ذاتی رجحان ہے یہی وجہ ہے کہ ایسا جنسی رویہ رکھنے والے افراد جنس مخالف کی دستیابی کے باوجود ہم جنسی کا رجحان رکھتے ہیں۔ سادہ الفاظ میں شادی بھی اس مسئلے کا مستند حل نہیں ہے اور ایسے افراد شادی کے بعد بھی ایسا رجحان رکھتے ہیں بلاشبہ یہ کچھ دب ضرور جاتا ہے مگر ختم نہیں ہوتا کیونکہ ہم جنس پسندی ایک قدرتی رجحان ہے جو ماں کے پیٹ سے ہی پروان چڑھنا شروع ہو جاتا ہے چنانچہ ہم جنس پسندی کوئی قابل اعتراض چیز نہیں ہے۔

لیکن مشکل یہ ہے کہ ہم نے جنسی رویوں کو حال ہی میں سمجھنا شروع کیا ہے لہذا ہم جنس پسندی کو روایتی طور پر قابل اعتراض سمجھا جاتا رہا ہے چنانچہ بالکل منطقی طور پر تقریبا ہر مذہب نے اس کے لیے سخت سزائیں تجویز کیں ہیں لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ بالعموم مذہبی پیشوا ہی اس عمل میں پیش پیش رہے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ صوفیانہ روایات سے مزین مردانہ اجارہ داری کی حامل مذہبی قیادت بالعموم نسائی لذت سے محروم رہی ہے کیونکہ تقدس کا تصور زنانہ جنسی لذت سے آلودہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔ چنانچہ جنسی گھٹن کی شکار مذہبی قیادت کے لیے دینی تربیت کے لیے مدخول بچے آسان ہدف رہے ہیں۔

اس کے علاوہ بچوں کو خوف زدہ کر کے خاموش رہنے پہ مجبور کر دینا اور ان کے دل میں تقدس کے ہیولے کا ادب (رعب) پیدا کر لینا آسان رہا ہے۔ بچے سمجھتے ہیں چونکہ مذہبی رہنما خدا کے دنیاوی نمائندے ہیں لہذا ان کی ہر بات پہ مطلق فرمانبرداری ضروری ہے چاہے وہ حکم بظاہر ناجائز ہی ہو کیونکہ وہ مذہب کو مقدس ہستی سے زیادہ تو نہیں سمجھتے۔ ماسوائے اس کے بچوں کو سیکس کے موضوع پہ تعلیم کی کمی بھی اس کے لیے ذمہ دار رہی ہے۔

یہ مشق کسی ایک تہذیبب یا مذہب کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ تقریبا ہر ثقافت اور مذہب اس حوالے سے شریک لطف رہا ہے۔ قدیم جاپان میں مردوں کی کم عمر لڑکوں سے جنسی لذت حاصل کرنے کے رواج کو Nanshoku کہا جاتا تھا، اس مقصد کے لئے اشرافیہ کے پاس wakashu کہلائے جانے والے لڑکے موجود ہوتے تھے۔ اسی طرح یونانیوں نے بھی لڑکے رکھے ہوئے تھے ارسطو نے اپنی کتاب پولیٹکس میں اس پر بحث کرتے ہوئے کہا ہے کہ Crete کے حکمران آبادی کنٹرول کرنے کے لئے pederasty بچہ بازی/ اغلام بازی کی پزیرائی کرتے تھے۔

چینی تہذیب میں بھی یہ رواج عام تھا۔ شہنشاہ Ai کی آستین پر ایک مرتبہ انکا عاشق سو گیا اس نوجوان کو اٹھانے کے بجائے آپ نے اپنی آستین ہی کاٹ لی۔ یہ دیکھتے ہوئے بعد میں درباری بھی ایک آستین نکال لیا کرتے تھے، اسی وجہ سے چین میں لڑکوں کا شوق رکھنے والوں کے لئے Passion of Cut Sleeves کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

فارس میں بھی یہ مرض عام تھا، سکندرِ اعظم کو فارس کے حکام نے Bagoas نامی ایک لڑکا بھی تحفہ میں دیا تھا، سکندر کویہ نوجوان بہت عزیز تھا رقص کے مقابلوں میں اسے نچوایا کرتا تھا، اس سے کھلے عام اپنے پیار کا اظہار بھی کردیا کرتا تھا Bagoas Kiss کی اصطلاح یہاں سے نکلی۔ عباسی دور میں خلیفہ الامین نے لڑکوں سے دربار میں رونق لگائے رکھی۔ عثمانی دور کی اشرافیہ بھی یونانیوں سے اس درجہ متاثر تھی کہ حماموں میں تلک نام کے کم عمر لڑکے رکھے جاتے جو مردوں کو نہلانے کے علاؤہ دیگر خدمات بھی سر انجام دیتے تھے۔

بابل کی تہذیب میں بھی مرد کا مرد سے جنسی تسکین حاصل کرنا ایک معمول کا فعل تھا۔ خوش بختی اور اچھی قسمت کے لئے ضروری تھا کہ مذہبی پیشواؤں سے جنسی تعلق قائم کیا جائے۔ مصر کی تہذیب میں بھی یہ ہی چیز جاری رہی تھی۔ انکی تین ہزار سال پہلے کی گلگامش کی کہانی میں بھی بادشاہ گلگامش انکیدو نامی لڑکے کی محبت میں گرفتار ہو جاتے ہیں۔

آج بھِی افغان معاشرے میں یہ رویہ مباح سمجھا جاتا ہے کہ سماجی شان و شوکت کے لیے نوعمر لڑکے رکھے جائیں۔ یہ رویہ اس حد تک مقبول ہے کہ 2015 میں امریکی جرنیلوں نے اپنے فوجیوں کو ہدایت کی تھِی کہ افغان "بچہ کشی” میں مداخلت نا کی جائے۔ شاید ہی کوئی افغان سردار ایسا ہو گا جس کے حجرے میں امرد موجود نا ہوں۔ ناصرف یہ کہ ان لڑکوں کی ملکیت قابل فخر ہے بلکہ ان کے توارد کے لیے جنگجو سرداروں کی خونی لڑائیاں بھِی عام ہیں۔ یہ لڑکے ناصرف جنسی راحت دیتے بلکہ فنکارانہ ذوق کی تسکین بھی کرتے ہیں جیسا کہ پازیب کے ساتھ رقص وغیرہ۔ اس حوالے سیاسی یا مذہبی وابستگی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ مذہبی، متشرع طالبان اور افغان حکومت کے حامی سیکولر سردار، دونوں اس حمام میں ننگے ہیں۔

مذہب میں اس حوالے سے سب سے زیادہ بدنام مسیحی گرجا رہا ہے (پیغمبر عیسی کے ماننے والے عیسائی نہیں بلکہ مسیحی ہیں)۔ میڈیا کے فروغ نے بیسیویں اور اکیسیویں صدی کے دوران مسیحی گرجا کی ہم جنسی پرستی کا پول کھول دیا ہے حالانکہ گرجا پہ ایسے الزامات صدیوں سے لگتے آئے ہیں۔ نہ صرف یہ کہ بلکہ گرجا میں رہنے والی راہباووں کی بکارت کو محفوظ رکھتے ہوئے ان سے غیر فطری جنسی فعل کے واقعات بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

بعینہہ، یہودی برادری کی عبادت گاہوں (سینا گوگ) میں ہم جنسی اشتہاانگیزیوں کی شکایات کا انبار ہے۔ بودھ صوفی بھی کسی سے پیچھے نہیں رہے۔ ابھی حال میں ہی تھائی لینڈ کی بودھ خانقاہوں میں نوعمر بودھ بھکشووٗں کے ساتھ عمر رسیدہ بھکشووٗں کی جنسی ذیادتی کا انکشاف ہوا ہے۔ ایک ۱۳ سالہ بھکشو کی شکایت کے مطابق ۵۱ سالہ رہبر بھکشو اسے اپنے ننگے جسم کا مساج کرنے اور اپنے جسم کو چوسنے کا کہتے۔

پاکستان میں یہ روایت اردو کی رعایت سے آئی ہے حالانکہ اردو کی قبولیت عام سے پہلے بھی برصغیر کے مسلمانوں میں عشق افلاطونی (افلاطون کے نزدیک عورت سے محبت فضول ہے کیونکہ عورت سے جنسی عمل صرف نسل آ گے بڑھانے کے لیے ہے جب کہ عشق حقیقی کا حظ صرف نوعمر بغیر داڑھی کے لڑکوں سے ہی اٹھایا جا سکتا ہے) کی مضبوط ثقافت موجود تھی۔

اردو کی اولین تحریر سے بھی ۳۵۰ سال پہلے پیدا ہوئے سلطان علاوالدین خلجی کی اپنے غلام ملک کافور سے محبت پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ خلجی کے دورِ حکومت میں ایک مبصر ضیا الدین بارانی نے خلجی کے آخری دنوں کا احوال بتاتے ہوئے کہا ہے کہ ان چار پانچ برسوں میں جب سلطان اپنی یاداشت کھونے لگے تھے تو وہ ملک کافور کے ساتھ گہری محبت میں ڈوبے ہوئے تھے۔ کچھ ایسی ہی حکایات سلطان محمود غزنوی اور ان کے چہیتے مملوک ایاز کے لیے بھی ہیں۔ تزک جہانگیری میں مغل بادشاہ جہانگیر نے بھی لڑکوں پہ اپنی شبینہ فتوحات کا ذکر کیا ہے۔ مولانا ابوالکلام آزاد سرمد پر اپنی تحریر کی ہوئی کتاب ’حیاتِ سرمد‘ میں صوفی سرمد کی اپنے محبوب ابھےچند کے لیے سرمستی عشق کے بارے میں لکھا ہے۔

پنجابی کے نامور شاعر اور لاہور کے صوفی شاہ حسین اور ہندو لڑکے مادھو کے عشق سے کون واقف نہیں ہے؟ اس عشق کی گہرائی کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے اپنے محبوب کا نام اپنے نام کا مستقل حصہ بنا لیا اور اب بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں کہ مادھو لال حسین ایک شخص کا نام نہیں تھا بلکہ دو الگ الگ نام تھے۔

اسلامی تصوف میں اس حوالے کی روایت پہلے عرب (شاعر ابو نواس) اور پھر فارس (عمر خیام اور حافظ شیرازی کا مشہور شعر تو ہر کوئی کس لذت سے سناتا ہے کہ اگر وہ شیراز کا ترک لڑکا مجھے مل جائے تو میں اس کے گال کے تِل کے بدلے سمر قند اور بخارا کے شہر اسے بخش دوں) سے وارد ہوئی۔ اس سلسلے میں صوفی سلسلے کی مشہور بزرگ شاہ شمس تبریز اور مولانا روم کا عشق زبان زد عام ہے۔

1244 میں مولانا رومی کی جب شمس تبریز سے ملاقات ہوئی تو ان کی عمر 37 برس اور شمس تبریز کی عمر 60 برس تھی۔ اس وقت تک مولانا رومی ایک مستند و معتبر عالم بن چکے تھے۔ ان کا خطبہ سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ جمع ہوتے تھے۔ ان کے شاگردوں کی فہرست طویل تھی۔ وہ اپنی بیوی اور بچوں کے ساتھ ایک خوشحال‘ باعزت اور کامیاب زندگی گزار رہے تھے۔ شمس نے رومی کو چھوڑ جانے کا فیصلہ کیا تو رومی نے شمس کی شادی اپنی منہ بولی بیٹی کیمیا سے کر دی۔

یہ حقیقت بھی اہمیت کی حامل ہے کہ جوں جوں رومی شمس سے جذباتی طور پر قریب آتے گئے رومی اپنی بیوی سے رومانوی طور پر دور ہوتے گئے اور شمس بھی اپنی نو بیاہتا بیوی کیمیا سے ازدواجی تعلقات نہ قائم کر سکے۔ اس تعلق کی شرمندگی سے بچنے کے لیے رومی کے بیٹوں نے شمس کو قتل کر دیا۔

اردو غزل کے بادشاہ، ریختہ کے استاد، صوفی ابن صوفی سید محمد تقی (ولد سید محمد متقی جو ایک معروف مزار کے سجادہ نشین تھے) عرف میر تقی میرؔ، جن کو خداۓ سخن کا لقب دیا جاتا ہے، نے شاعری کے اپنے دیوان کے متعلق کہا تھا کہ میرے دیوان میرے معشوق لڑکے کے لکھا گیا ہے۔ ان کے معشوق لڑکے کے حسن کے قصے اور طرحداریوں کے افسانے اس کے خال و خد سے لے کر عشوہ طرازیوں تک چلے جاتے ہیں۔

اسی طرح پرانی دلی کے قدماء میں سے ایک بزرگ شاعر شیخ شرف الدین مضمون نے اپنے محبوب کے بارے میں لکھا کہ میرے محبوب کے چہرے پر داڑھی آ گئی ہے جبکہ میری داڑھی سفید ہو چکی ہے۔ لیکن وہ اب بھی ساری رات مجھ سے مصاحبت کرتا ہے۔ ہندو اردو شاعر رگھوپتی سہائے فراق گورکھ پوری بھی اپنے بیٹے کے عمر کے لڑکے کے عشق میں مبتلا تھے۔ کہتے ہیں کہ فراقؔ گھورکھ پوری کی ہم جنسیت کی وجہ سے ان کے بیٹے نے خود کشی کر لی تھی کہ اس کا باپ اس کے دوستوں سے بھی باز نہ آتا تھا۔)

ایک فقیہ اعظم نے اس رویے کا علاج یہ تجویز کیا تھا کہ اپنے شاگرد کا سر منڈوا دیا تاکہ وہ خوبصورت ہونے کی وجہ سے دوران سبق امام صاحب کی توجہ منتشر نا کروا دیں۔ مگر کیا کیجئے، مسئلہ حل نہیں ہوا اور اس کے بعد استاد محترم اپنے عزیز شاگرد کو اپنی مسند کے عقب میں یعنی اپنی نظروں سے اوجھل بٹھاتے۔ کیا اس سب کے بعد مفتی الشیخ عزیز الرحمان پہ گرفت کی جانی چاہیے؟ جواب آپ کا ہے۔

دو پاکستان

یہ دو وکیلوں کی کہانی ہے۔ ایڈووکیٹ بلال فاروق علوی 20 مئی 2021 کو کراچی سے اسلام آباد آنے والی ائیر بلیو کی پرواز 200 میں اپنے خاندان کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ ایڈووکیٹ علوی نشستوں کی پانچویں قطار میں براجمان تھے۔ دوران پرواز انہوں نے خود سے اگلی یعنی نشستوں کی چوتھی قطار میں ایک نوجوان جوڑے کو دیکھا جو بوس و کنار میں مشغول تھا۔ ایڈووکیٹ علوی کے مطابق وہ حضرات بوس و کنار سے سوا بھی ‘غیر اخلاقی’ حرکات کر رہے تھے جس پر انہوں نے ائیر ہوسٹس کو ان کی شکایت دی۔

بادی النظر میں پاکستانی فضائی حادثوں کے ریکارڈ سے فکرمند ایڈووکیٹ علوی نے سوچا کہ دورانِ پرواز ایسی حرکتیں خدا کے غضب کو دعوت دینے کے مترادف ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ پاکستانی فضائی سفر میں یہ سوچ کوئی انوکھی بات نہیں ہے بلکہ اس سے پہلے بھی ہوائی حادثوں سے خدائی تحفظ کی خاطر ہوائی جہازوں کے سامنے کالے بکرے کی قربانی اور ہوائی سفر کے دوران موسیقی کی بجائے مذہبی کلام گایا بجایا جاتا رہا ہے۔ یاد رہے کہ جولائی 2010 میں اسی روٹ پر اسی فضائی کمپنی کی اسی منزل کو جانے والی پرواز 202 مارگلہ کے پہاڑوں میں گر کر تباہ ہو گئی تھی جس میں سوار تمام 152 افراد لقمہ اجل ہو گئے تھے۔

ائیر ہوسٹس نے اس نوجوان جوڑے کو ایک دوسرے کو چومنے سے روکنے سے ناکام رہنے پر انہیں ایک کمبل اوڑھا دیا جس کی اوٹ میں وہ اپنی محبت کا اظہار جاری رکھ سکیں۔ ایڈووکیٹ علوی کے مطابق اس جوڑے نے ممانعت پر مزاحمت کرتے ہوئے جواب دیا کہ ان کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کی جانی چاہیے۔ ایڈووکیٹ علوی نے سول ایوی ایشن اتھارٹی پاکستان کو ہوائی جہاز کے عملے کے خلاف، اس جوڑے کو ‘بےحیائی’ سے روکنے سے ناکام رہنے پر، کاروائی کے لیے ایک درخواست دائر کی ہے جس پر سول ایوی ایشن اتھارٹی نے کاروائی شروع کر دی ہے۔

دوسری کہانی ایڈووکیٹ راشد رحمان کی ہے۔ وہ مبینہ توہین مذہب کے ملزم جنید حفیظ کے وکیل تھے۔ جنید حفیظ کے پہلے وکیل قتل کی دھمکیاں ملنے پر فوراً ہی ان کے مقدمے سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے بعد ان کا مقدمہ انسانی حقوق کمیشن آف پاکستان کے علاقائی سربراہ ایڈووکیٹ راشد رحمان نے لیا- وہ اس بات کے قائل تھے کہ ہر ملزم کو حق دفاع حاصل ہے اور سنوائی کا حق بنیادی انسانی حقوق میں سے ایک ہے۔ انہیں توہینِ مذہب کے اس مقدمے سے دستبردار ہونے کے لیے سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ قانون و انصاف کی سربلندی اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم رہے۔

2014 میں سماعت کے دوران کمرہ عدالت میں راشد رحمان کو واشگاف الفاظ میں کہا گیا کہ آپ (جنید حفیظ کی وکالت کرنے کی سزا کے طور پر) اگلی سماعت تک زندہ نہیں رہ سکیں گے- جس پر انہوں نے جج اور سیکیورٹی اداروں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی مگر کوئی شنوائی نہیں ہوئی- چند ہفتوں بعد ہی "نامعلوم افراد” نے ان کے دفتر میں گھس کر عینی شاہدین کے سامنے انہیں قتل کر دیا- اپنی موت سے چند دن قبل راشد نے بی بی سی کو انٹرویو میں بتایا تھا کہ پاکستان میں توہینِ مذہب کا مقدمہ لڑنا موت کے جبڑوں میں جانے جیسا ہے۔ بدقسمتی سے ان کی پیشنگوئی حرف بحرف سچ ثابت ہوئی۔

ایڈووکیٹ راشد رحمان کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر ایڈووکیٹ بلال فاروق علوی زندہ ہیں۔ سقراط نے کہا تھا کہ اگر میں زندہ رہا تو مر جاؤں گا مگر اگر میں آج مر گیا تو زندہ رہوں گا۔ جیورڈونو برونو نے موت کی سزا قبول کرتے ہوئے کہا تھا کہ آپ مجھ سے زیادہ خوفزدہ ہیں کیونکہ آپ زندہ رہ کہ مر جائیں گے اور میں مر کے زندہ رہوں گا۔ خیر یہ دو وکیلوں سے زیادہ دو پاکستان کی کہانی ہے۔ بحث برطرف، آپ کو کونسا پاکستان چاہیے؟ ایڈووکیٹ راشد رحمان کا پاکستان یا ایڈووکیٹ بلال فاروق علوی کا پاکستان؟

شیطانی آیات Satanic Verse کا ترجمہ

Satanic Verses
شیطانی آیات
ترجمہ (سلسلے وار)
ترجمہ کار رفیع رضا(
……..

دوبارہ آفرینش کے لئے جبرائیل فرشتہ بہشت سے نزول کرتے ہوئے گنگنا رھا تھا،
دوبارہ آفرینش کے لئے تمھیں پہلے مرنا ھوگا
، او جی ، او جی !!۔۔
اُبھری ھوئی خمیدہ زمین پر اُترنے کے لئے
پہلے پروں کی ضرورت ھے کہ اُڑا جا سکے
۔ تا تا۔۔۔ تاکا دِھن
کیسے کوئی ہنس سکتا ھے
جب تک کہ پہلے رو نہ چُکا ھو۔
محبوب کو کیسے پایا جا سکتا ھے
جب تک اسکے لئے آھیں نہ بھر لی ھوں،
دیکھو بابا ! یہ کرنا ھوگا
اگر دوبارہ پیدا ھونا چاھتے ھو،
،جبریل گنگاتا جا رھا تھا۔۔
اور پھر۔۔
شاید یہ نئے سال کی پہلی صبحِ کاذب تھی یا ایسا ھی کوئی وقت تھا، اُنتیس ھزار دو فُٹ کی بلندی سے برطانیہ اور فرانس کو جوڑتے علاقے کی جھیل میں دو برگزیدہ آدمی کسی پیراشوٹ کی مدد کے بغیر اور بغیر کسی قسم کے پروں کے کُھلے آسمان سے وارد ھوئے۔
۔۔
میں کہتا ھُوں تمھیں لازمی مرنا ھوگا، میں کہتا رھوں گا ، میں کہتا رھوں گا۔۔
وہ یہ کہتا رھا مرمریں چاندنی میں ایک اندھیرے کو کاٹتی زور دار چیخ کے بلند ھو جانے تک۔
شیطان کی دسترس میں سب زیر و بم رھے ھیں،الفاظ یخ بستہ رات میں جم چکے، اور سُنائے سُنائے اندرون تک اب دسترس دو۔
جبرائیل بے سُرے انداز میں مٹک مٹک کر بے وزن غزل گُنگُنا نے کی کوشش کر رھا تھا ھوا میں تیرتے ھوئے انسانی غوطہ خوروں کی نقّالی کرتے ھوئے، سیدھا اُلٹا، تیرتا رھا ، دھندلکے میں رواں دواں
اس نے آواز پر توجہ دی ۔ اوئے سلاد بابا تم ضرورت سے زیادہ اچھے ھو، او پرانے چمچ !۔۔
اِسی دوران دوسرا نہایت مشّاقی سے سر کے بل نزول کرتا ھوا ا رھا تھا۔۔۔
اوئے چمچُو۔۔۔ جبرائیل چِلّایا۔اوئے لندن والو لو ھم آ گئے۔۔اُن حرامیو کو نہیں پتہ اُنہیں کس سے پالا پڑا،کوئی شہاب ِ ثاقب تھا،۔ یا کوئی آسمانی عذاب تھا۔
آسمان سے آ دھمکا ،،دھڑام۔۔ اوہ کیا دخول ھے کیا نزول ھے۔۔اُف۔قسم سے دھماکے دار ھے۔
پھر اک عظیم دھماکے کے بعد ستارے ٹوٹتے گرتے رھے، جیسے بِگ بینگ کی گونج سُنی گئی ھو
جمبو جیٹ کی فلائٹ 420 کے پرزے بغیر کسی وارننگ کے اُڑ گئے۔
مہاگنی، بابلون، ایلفاوِل کوئی بھی نام دیا جا سکتا ھے لیکن جبرائیل اسے پہلے ھی لندن کا نام دے چکا ھے مجھے دخل کی ضرورت نہیں۔ولایت کا دار الؒخلافہ جھمک رھا ھے۔
ادھر ھمالیہ کی اونچائیوں میں طلوع آفتاب سے پہلے کے مختصر جھماکے میں جنوری کی فضا میں ایک لکیر ریڈار سے غائب ھو گئی اور فضا سے گرنے والے بے جان جسم ھمالیہ کے چوٹیوں کے نواح میں گرتے گئے۔

۔۔۔۔
مَیں ۔۔کون ھُوں
یہاں میرے علاوہ کون ھے؟

جہاز درمیان سے دو ٹکڑے ھوچکا، جو انڈے کے اندر تھا جو بیج کے اندر تھا باھر آ گیا۔
دو اداکار ایک تو اُچھلتا ھُوا جبرائیل اور دوسرا گٹھا ھُوا مسٹر صلادین چمچا ایسے نمودار ھوئے جیسے پرانے سگار سے تمباکو کے ذرّے گریں۔
انکے اوپر نیچے دائیں بائیں اُس گہرائی میں ادھر اُدھر ٹوٹی سیٹیں، کانوں میں گھسانے والے سماعتی آلے۔ کھانا پانی لانے والی ٹرالیاں، امیگریشن کے مسافری کارڈ ، ویڈیو گیمز کے سیٹ اور جانے کیا کیا بکھرا پڑا ھے۔
آکسیجن ماسک اور کاغذی کپس کے علاوہ کچھ مائگرینٹس اور ھاں ایک بڑی تعداد اُن بیویوں کی بھی موجود ھے، جنہیں برطانوی امیگریشن آفیسرز نے ذاتی جنسی سوالات کر کر کے گھائل کیا ھوا ھے۔ان سب کے ٹکڑے جہاز کے ٹکڑوں سمیت بکھرے پڑے ھیں،
ان سب کی ارواح کے ٹکڑے بھی تیرتے پھرتے ھیں، جس میں ٹوٹی یاد داشتیں، ،خودی سے دُوری، ، مادری زبان سے محرومی،، پرائیویسی میں مداخلتیں، نا ترجمہ ھو سکنے والے لطیفے ، گم شُدہ مستقبل اور بےثمر محبتیں، بکھری پڑی ھیں۔
دھماکے سے مبہوت ھو جانے والے جبرائیل اور صلادین جیسے کسی بگلے کی لاپرواہ کُھلی رہ جانے والی چونچ سے گرے ھوں، اور چونکہ صلادین چمچہ سر کے بل گِرا تھا جو کہ پیدا ھونے والے بچوں کی طرح ضروری ھے،اُسے اس بات سے چڑ تو ھونی تھی جب باقی لوگ بےھنگم طریق پر گِرے ھوں۔
صلادین سر کے بل سیدھا گِر رھا تھا، جبکہ فرشتے نے ھوا کا ھاتھ ھی نہین تھام رکھا ھر طرح سے ھوا کے ساتھ چمٹ سا گیا تھا۔نیچے بادل کی تہوں کے نیچے انگلش چینل نام کی جھیل انکے آواگون نما آمد کی منتظر تھی۔
دیکھو دیکھو
میرے جوتے ھیں جاپانی۔۔ جبرائیل نے پرانے گانے کو نئی انگریزی میں ترجمہ کر کے گایا ،نیم آگاھی حالت میں منزل کی تمجید کو انگریزی میں گانا ضروری تھا۔
میرا پاجامہ انگریزی، اور سر پر رُوسی ٹوپی، اور دل میرا ھندوستانی ۔۔وہ گا رھا تھا۔۔

بادل انکی طرف سمٹ رھے تھے۔شاید انکی تعظیم کے لئے یا انکا مزاق اُڑانے کو یہ ضروری تھا۔

تاھم جو بھی وجہ ھو دونوں افراد جبرائیل صلادین، اور فرشتہ چمچہ آخری وقت تک اس ھونی کو بُرا بھال کہتے رھے لیکن اُنہیں اپنی ھیئت کزائی کی تبدیلی کا مطلق علم نہ ھو سکا۔
میوٹیشن؟ تبدیلی؟ جی ھاں ! لیکن یہ خود سے تو نہیں ھو گئی۔صدیوں پہلے سے تیار کردہ اور صدیوں بعد ایسے ماحول کی مطابقت اتفاقی تو نہیں ھو سکتی
جہاں حرکت پزیری کا مرکز ھو، اور جنگوں کی مرکزیت ھو۔
مشکوک و غیر مسلسل تبدیلیاں خؤد سے نہیں ھوتیں جیسے کہ فضا میں سب کچھ پھینک دیں تو کچھ بھی ھو جائے کچھ بھی بن جائے۔
جیسے اداکار جادوئی کرتبوں سے بوڑھے مسٹر لمارک کو خوش کر دیتے ھیں کہ زمانی دباؤ سے کچھ بھی تبدیل کیا جا سکتا ھے۔۔

لیکن زمانی دباؤ کے خواص سے پہلے یہ بتاؤ تم سمجھتے ھو تخلیق اچانک اور جلدی ھو جاتی ھے؟ نہیں نا تو پھر کشف بھی کچھ نہیں کر سکتا۔کای کچھ غیر معمولی نظر بھی آ رھا ھے؟ وھی دو براؤن انسان تیزی سے گرتے ھوئے، یہ کوئی نئی بات تو نہیں، تم سوچ سکتے ھو وہ دونوں شاید اپنی اوقات سے اوپر چلے گئے تھے۔ یا سورج کے بہت ھی قریب جانے سے یہ ھوا گیا؟

یہی نہیں ۔۔۔سُنو !۔
مسٹر صلادین جو کہ فرشتے جبرائیل کے حلق سے برآمد ھونے والی آوازوں کی وجہ سے اپنی شعر ، اپنی آیات بھی بھول گیا تھا۔
فرشتے نے جو سُنا تھا وہ جیمز تھامسن کا قدیم گیت تھا،
جبرائیل نے اُلوھی حکم پر اپنے نیلے ھوتے ھونٹوں سے آواز نکالنے کی کوشش کی۔۔۔آواز نہ نکلنے سے خوف کھا کر فرشتے نے اونچی آواز مین گانے کی کوشش کی۔
جاپانی جوتے
رُوسی ٹوپی
برِ صغیر کے زندہ دِلان
لیکن آواز تھی کہ نکل نہ پاتی تھی۔ادھر صلادین وحشت میں گنگنا رھا تھا

چلو ھم اس حقیقت کو کھولتے ھیں، یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ایک دوسرے کو سُن سکتے۔، بات کرسکتے، یا گنگنانے کا مقابلہ کر سکتے۔
زمین کی طرف سرعت سے ارد گرد کی فضا کا ھولناک شور کیسے انہیں کچھ سُننے دیتا جو وہ ایک دوسرے سے کہہ رھے تھے؟
چلو ھم مان لیتے ھیں اسکے باوجود اُنہوں نے ایک دوسرے کو سُنا !۔۔
۔
تیزی سے زمین کی طرف جاتے ھوئے سخت منجمد کرتی ھوئی ٹھنڈ انکے دلوں تک کو منجمد کرنے پر قادر تھی۔لیکن اسی خوف کے دھچکے سے وہ اپنے اسی گُنگنانے کے سبب بیدار ھوئے یہ سمجھنے کے لئے کہ ارد گرد کے گرتے انسانی اعضا جب زمین پر گِرے تو مکمل منجمد تھے۔
انہیں لگا جیسے وہ ایک عمودی سُرنگ کے اندر ھیں چمچہ جو کہ اُسی طرح سر کے بل نیچے جا رھا تھا اُس نے دیکھا کہ اُس عمودی بادلوں سے ڈھکی چمنی ُنما ٹنل میں جبرائیل فرشتہ اپنی جامنی قمیص میں اُس کی طرف تیرتا ا رھا ھے جس پر صلادین چمچہ شاید چیخا تھا کہ دور رھو۔۔۔مجھ سے دُور رھو۔۔۔یہ کہنے کی کوشش تو کی تھی مگر آواز شاید نہ نکل سکی اور فرشتہ اسکے بازوؤں میں جُھول گیا
لیکن اس دھچکے کے سبب وہ تیزی سے بادلوں کے درمیان سے گرنے لگے اور ایسے حیرت خانے میں داخل ھوئے جہاں، جیسے ھیئتی تبدیلیاں ان میں جاری ھو گئی ھوں دیوتا ، بیل بنا دئیے گئے۔۔۔عورتیں مکڑیاں بن گئیں آدمی بھیڑئیے بنا دئیے گئے ھوں

دوھیئتی مخلوقِ سحابی کی یلغار ان پر ھونے لگی
بڑے بڑے پُھول جن پر انسانی چھاتیاں لٹک رھی تھیں، پروں والی بلّیاں، ، ،،
، ، انسانی دھڑ والے بچھڑے، نظر آنے پر صلادین چمچہ بھی محسوس کر رھا تھا کہ وہ دو ھیئتوں کو اختیار کر چکا ھے۔
اور اب وہ ایک ایسا انسان ھے جسکا اپنا سر اسی کی ٹانگوں کے درمیان پھنسا ھے۔اور اسکی ٹانگیں اسکی گردن کے گرد لپٹی ھوئی ھیں۔
تاھم اُس شخص کے پاس اتنا وقت نہیں تھا کہ وہ مناسب طریق پر ایسا کچھ سوچ سکتا یا محسوس کر سکتا۔کہ کسی خاص عمر میں پُر کشش عورت کے اعضا کیسے ھوتے ھیں۔جس نے بروکیڈ کی سبز و سنہری ساڑھی پہن رکھی ھو۔اور جسکی ناک میں ایک ھیرا جڑا ھو اور جسکی زلفیں ھوا کے دوش پر لہرا رھی ھوں، جیسے کہ وہ ایک اُڑتے جادوئی قالین پر بیٹھی ھو۔
۔۔ریکھا مرچنٹ، جبرائیل نے مدح سرائی کی، تمھیں بہشت کا رستہ بھول گیا؟ یا کچھ اور بات ھے؟
ایک مُردہ عورت سے ایسا کلام کیسی بیہودگی ھے!۔۔
تاھم وہ رہ نہیں سکا۔۔۔کچھ نہ کچھ تو کہنا چاھئیے !۔۔
اُدھر چمچے نے استفساری انداز میں آواز لگائی ، واٹ دی ھَیل۔۔۔؟ کیا بکواس ھے۔۔
کیا تم نے اُسے نہیں دیکھا؟ فرشتہ چِلّایا،
کیا تم اُس بخارا کے ایرانی لعنتی قالین کو نہیں دیکھ رھے؟
نہ نہ نہ ۔۔جبریلو !۔۔ اُس عورت نے سرگوشی کی ۔ صلادین سے مت کہو کہ بتائے۔
میں صرف تمھارے کانوں کے لئے ھُوں،تم دیوانے ھوئے جا رھے ھو۔تُم خود کو کیا سمجھتے ھو، تُم غیر مشہور، ، خنزیر کے گوبر کے ٹکڑے، میری محبت !۔۔یاد رکھو موت کے ساتھ ایمانداری آتی ھے میرے محبوب، اس لئے میں تمھیں تمھارے اؒصلی ناموں سے پکار سکتی ھوں
۔۔۔۔
بادلوں کے ھیولوں کی طرح کی ریکھا نے کچھ تیکھا کسیلا نہیں کہا تھا۔۔لیکن جبرائیل پھر چِلّایا۔۔۔اوئے چمچے کیا تمھیں اسکی زیارت ھوئی کہ نہیں بتاو !۔۔
، صلادین چمچے نے کچھ دیکھا ، نہ سُنا، اور اُس نے کچھ کہا۔۔
جبرائیل کو عورت سے خود مکالمہ کرنا پڑا، تمھیں ایسا نہیں کرنا چاھئیے تھا، ،،وہ بولی نہیں جناب، سچ مچ میں گُناہ تو گناہ ھی ھوتا ھے اور یہ سچ ھے۔
اور تم یہاں مجھے لمبا خطبہ دے سکتے ھو، کیونکہ تمھارا منصب بہت بالا ھے، یہ تم ھی تھے جو مجھے چھوڑ گئے۔۔اس نے فرشتے کے کان میں سرگوشی کی۔
اسکی سرگوشی سے فرشتے کو یاد آیا۔۔جیسے اسکے دماغ سے کچھ چٹکی بھر مغز نکال لے گئی ھو۔
یہ تم تھے،،،میری خوشی کے مہتاب، جو ایک بادل کے پیچھے چھپ گیا تھا۔ اور محبت کے لئے اندھے ھو گئے تھے۔۔اور گم گشتہ ھو گئے تھے۔۔
فرشتے پر خوف طاری ھو گیا۔ تم کیا چاھتی ھو؟ اچھا مت بتاؤ بس تم یہاں سے چلی جاؤ!۔۔
چلی جاؤں؟ دیکھو جب تم بیمار تھے، تو سکینڈل کی مشہوری کی وجہ سے میں تمھاری عیادت کو نہ آسکی ،یہ تمھارے فائدے کے لئے تھا لیکن جب تمھیں سزا ھوئی تم نے اس سزا کو ایک بہانہ بنایا اور مجھے چھوڑ گئے۔اس بادل کے پیچھے چھپ گئے ، تُم حرامی ! ۔۔اب جب کہ میں مر چکی ھُوں، میں بھول چکی ھُوں کہ کیسے معاف کیا جاتا ھے!۔میں تمھیں بد دعا دیتی ھُوں تمھاری زندگی دوزخی ھو،کیونکہ یہ وھی جگہ ھے جہاں تم نے مجھے بھیجا تھا،جہاں سے تم آئے ھو،او شیطان جہاں تم جا رھے ھو،،خون چوسئیے ! جا لہُو میں غوطہ لگا،

ریکھا کی بد دعائیں اور بعد کی آیات اُس زبان میں تھیں جو اُسے معلوم نہ تھی۔اُسے لگا کہ اُسے اس سارے کا کوئی اثر نہیں ھُوا یا شاید اثر ھُوا تھا۔۔ کیونکہ نام لبوں پر آ گیا تھا اَل لات !
وُہ چمچے کی جانب جھکا اور وہ غباری بادل سے نکل گئے۔
۔۔
، …
)اگلی قسط کا انتظار کریں(

۔

۔









ستارہ لکیر چھوڑ گیا ، تجزیہ، تنقید

ستارہ لکیر چھوڑ گیا ۔۔رفیع رضا

جہان ِ حیرت کا مسافر ۔ رفیع رضا
عرفان ستار۔۔۔۔
مجھے یہ کہنے میں کوئی باق نہیں کہ میں نے اب سے پہلے رفیع رضا کو پڑھنے کی طرح نہیں پڑھا تھا۔ اسی طرح پڑھا تھا جیسے فیس بک پر سب پڑھتے ہیں۔ ایک عرصے تک تو رفیع میری فرینڈز لسٹ میں بھی شامل نہیں تھا۔ مگر اس دوران میں وہ اپنی غزلوں کے لنک مجھے ای میل کرتا تھا اور میں ایک سرسری پڑھت کے بعد جو مناسب سمجھتا تھا، وہ رائے دے دیتا تھا۔ اللہ اللہ خیر صلا۔ مگر اس دوران بھی بحیثیت شاعر، میرے دل میں رفیع کی قدر و قیمت موجود تھی، مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کے رویّے کی شدّت دوسروں کی طرح مجھے بھی پریشان کرتی تھی۔ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ یہ شخص دل جمعی سے شاعری کرنے کی بجائے یہاں وہاں جھگڑے کیوں مولتا پھرتا ہے؟ آخر مسئلہ کیا ہے اس کا؟ پاگل ہے؟ ذہنی مرض میں مبتلا ہے؟ خود پسند ہے؟ حاسد ہے؟ کیا ہے آخر؟ اس مسئلے کو زیادہ گمبھیر میں نے یوں بنا لیا کہ کینیڈا آنے کے بعد رفیع سے دو ایک ملاقاتیں ہوگئیں۔ یہ کیا؟ یہ تو کوئی اور ہی شخص ہے۔ پُرخلوص۔ گرم جوش۔ سلیقے کی گفتگو کرنے والا۔ تو پھر وہ کون ہے جو فیس بک پر آگ اگلتا پھرتا ہے؟ یہ مسئلہ کبھی میرے لیے سلجھنے والا نہ تھا اگر بھائی فرحت عباس شاہ نے مجھ سے رفیع کی شاعری پر کچھ لکھنے کے لیے نہ کہا ہوتا۔ جب یہ ہوا تب بھی میرا ابتدائی ردّ ِ عمل کوئی بہت مثبت نہ تھا، اگرچہ میں نے اس کا اظہار نہ کیا۔ ذہن میں یہ آیا کہ کیا مصیبت ہے۔ کس نے میرا نام سجھا دیا شاہ جی کو؟ خواہ مخواہ رفیع کی شاعری پر لکھ کر اس کے مخالفین کی باتیں سننے کی کیا ضرورت ہے؟ پھر سوچا چلو خیر ہے۔ کاریگری دکھا دوں گا۔ صاحب ِ اسلوب، جدید فکر کا حامل، تازہ کار، اور اس قسم کی چند باتیں پھیلا کر لکھ دوں گا، جس میں کوئی فقرہ قابل ِ گرفت نہ ہوگا۔ سوال اٹھانے والوں سے کہہ دوں گا کہ یار۔ دنیا داری بھی کوئی چیز ہے۔ اگر نہ لکھتا تو لوگ کہتے کہ میں رفیع سے جلتا ہوں۔ نمبر ون کی لایعنی بحث بھی تو چھڑی ہوئی ہے۔ نہ لکھتا تو لوگ کہتے رفیع کے نمبر ون شاعر ڈکلیئر ہوجانے سے ڈرتا ہوں، اس لیے لکھ دیا۔ خیر ہے یار۔ دو ایک دن میں تحریر اپنی موت آپ مر جائے گی۔ لوگوں کی یاداشت بڑی مختصر مدت کی ہوتی ہے۔ کس کو یاد رہے گا؟
خیر اسی ذہنی کیفیت میں ’’ستارہ لکیر چھوڑ گیا’’ کا مطالعہ شروع کیا۔ پہلی بار سرسری نظر دوڑائی۔ وہی تاثر ابھرا کہ جو ہہلے سے تھا۔ اچھا شاعر ہے۔ مگر اتنا بھی اچھا نہیں۔ اخاہ۔ یہ لفظ کیسے استعمال کیا ہے؟ اور یہ ترکیب؟ یار کیسی پتھریلی زمین ہے۔ شدت ہے، مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔چلو کل بیٹھ کر ایک آدھ گھنٹے میں نمٹا دوں گا مضمون۔ خیال سے لکھنا ہوگا۔ کوئی فقرہ سخت نہ ہو۔ کوئی بات حتمی نہ ہو۔ بس بین بین چلتا ہوا سلامتی سے گزرجاوٗں گا۔
اگلے دن پھر کتاب کھولی اور ذہن کو ایک شعر نے زوردار جھٹکا دیا۔
سو پھیلنے کی اسی حد پہ علم جاکے رکا
میں کہہ رہا تھا جہاں یہ سمٹنے والا ہے
یہ کیا ہے؟ ایکسپینڈنگ یونیورس تھیوری؟ مگر اس کا غزل میں کیا کام؟ اور پھر شاعر یہ بھی کہتا ہے کہ یہ جہاں سمٹنے والا ہے؟ گویا سائنس کا یہ ماننا کہ کائنات مسلسل پھیلنے کے عمل سے گزر رہی ہے، اور یہ عمل کسی وقت پلٹے گا، اور کائنات ایک مرکز کی جانب پھر سمٹے گی اور نتیجہ؟ وہ سب ٹھیک مگر یہ تھیوری غزل میں کیا کررہی ہے؟ کمال ہے۔ اور دیکہیں؟ چلو چلو۔۔۔آگے بڑھو۔
یہ جو موجود ہے، اسی میں کہیں
اک خلا ہے، تجہے نہیں معلوم
پیریلل یونیورس تھیوری؟ نا ممکن۔ یہ تکا ہے یار۔ شاعر کو کہاں معلوم ہوگا۔ یونہی لکھ دیا اور میں اس کو اپنے حساب سے توجیہ دینے لگا۔ پرے ہٹاوٗ یار۔ غزل کو غزل کی طرح پڑھو۔
نظر آتا ہے سر پر، اور نہیں ہے
رضا اس آسماں کا کیا کیا جائے؟
نہیں یار یہ خالص سائنس ہے۔ یہ تکا نہیں ہوسکتا۔ بالکل صاف، واضح شعر ہے۔ آسماں کا کوئی وجود نہیں۔ بس خلا ہے۔ اتھاہ، لاانت خلا۔ یہ آسمان صرف نظر کا دھوکہ ہے۔ یہ شخص کسی اور مقام سے کلام کررہا ہے۔ ہوشیار باش۔ ذرا خیال سے۔ معاملہ نازک ہے۔
دھڑکتی رہتی ہے کوئی گھڑی مرے دل میں
یہ وقت میرے ہی چکر سے ہوکے جاتا ہے
وجود سے باہر وقت کی کوئی حقیقت نہیں؟ ٹائم اینڈ اسپیس؟ کیا کررہا ہے یہ شخص؟ یہ تو سائنس سے زیادہ مابعدالطبیعات کا موضوع ہے۔ یہ کیا جہمیلا ہے یار؟
ستارے ہیں کہ دروازے کھلے ہیں آسماں کے
مجھے اب دربدر جانا ضروری ہوگیا ہے
بلیک ہولز؟ اینٹری پوائنٹ ٹو دی ادر ڈائمنشن؟ نہیں یار ستارے لکھا ہے۔ تو بلیک ہول سے پہلے کیا تھا؟
جدھر سے آرہا ہے وقت کا خاموش دھارا
رضا میرا ادھر جانا ضروری ہوگیا ہے
نہیں یہ محض اتفاق نہیں۔ ایک ہی غزل میں دو ایسے اشعار؟ یہ شخص جانتا ہے کہ کیا کہہ رہا ہے۔ یہ بک رہا ہوں جنوں میں کیا کیا کچھ نہیں ہے۔ یہ آگہی کا سفر ہے۔ اس کی آنکھ کو کوئی ایسی جھری مل گئی ہے جس سے یہ ممنوعہ علاقے میں جھانک رہا ہے۔
پھسل گئیں مری آنکہیں پھر آسماں کی طرف
میں اس کے بعد وہیں پر خرام کرنے لگا
اس کے لیے آسمان سر تنی ایک چادر نہیں جس میں ستارے ٹنگے ہیں۔ اس کے بزدیک آسماں ایک لامحدود حقیقت ہے جہاں سے جہان ِ دگر کی راہ داریاں گزرتی ہیں۔ اس کے پاوٗں تو زمین پر ہیں، مگر اس کا سفر اس دوسرے جہان کا ہے، جہاں سے خبریں لا لاکر یہ لوگوں کو سنا رہا ہے اور جب وہ نہیں سمجھتے تو یہ جھلاتا۔ الجھتا ہے۔ چیختا ہے۔ سب سے لڑتا ہے۔ اس لیے کہ یہ سب سے محبت کرتا ہے۔ وہ چاہتا ہے کہ سب اس کے جہان ِ حیرت کے سفر میں اس کے ساتھ شریک ہوں۔ جہان ِ حیرت؟ حیرت؟ کیا یہ کلید ہے اس کی شاعری کا قفل کھولنے کی؟ چلو پھر چلو کتاب کے پہلے صفحے پر۔ حیرت۔۔۔۔۔
مرے لیے گُل ِ حیرت کھلا ہوا رکھنا
رضا ابھی مرے پاس آنکھ کا پرندہ ہے
منظر سے میں کہتا ہوں کہ حیرت مجھے دے دے
منظر مجھے کہتا ہے نظر کاٹ کے دے دوں
میری جراٗت کہ میں حیرت کی کہانی لکھوں
میں الف کی ابھی تفسیر نہیں کرسکتا
اب تک رکا ہوا اسی حیرت کدے میں ہے
لگتا ہے پھر خمار میں آیا نہیں ہے تُو
نئی حیرت تھی اس لیے سب لوگ
رک گئے، اور میں بے خطر گھوما
ہاں ہاں ہاں۔ حیرت۔ اور نئی حیرت۔ سائنس کی تازہ تر دریافتوں سے وا ہونے والی دنیا کی حیرت۔ ایک ایسا طلسم کدہ جس میں ایک بار جھانکنے کے بعد اصل کے سامنے آئینہ بے حیثیت ٹھہرتا ہے۔ یا حیرت۔
کوئی منظر خرید سکتا ہے
مجھ کو حیرت کے ایک دھیلے میں
یہ ہے مسئلہ اس پاگل کا؟ یہ اگہی سے دامن چاک کرکے گھومتا ہے؟ ایسی چاک دامانی کی بخیہ گری جنوں کے بس میں نہیں۔ اس کا کوئی علاج نہیں۔ آگہی کی طلب مزید کھوج ہے۔ اور یہ لگا رہتا ہے اسی کھوج میں۔ کیا واقعی؟ اور دیکہیں؟
شاید اسے کہیں کوئی حیرت دبوچ لے
حدّ ِ نظر سے آگے اچھالی ہوئی ہے آنکھ
حیرت مجھے لگتی ہے کوئی آٹھویں رنگت
یہ رنگ مری آنکھ میں بھرنے کے لیے ہے
گویا یہ سب اتفاق نہیں؟ یہ شخص اٹھویں رنگ کو منظر میں بھرنے اور آٹھواں سُر راگ میں لگانے کی دھن میں تصویر بناتا اور گیت سناتا ہے؟
حیرت کسی صورت مجھے چلنے نہیں دیتی
اور اگلا نظارا مجھے رکنے نہیں دیتا
یائے ہائے۔ کیسی کشکمش لکھی ہے اس شخص نے۔ ایک طرف حاضر منظر کی گہرائی ہے جو مزید رکنے کا تقاضا کررہی ہے، اور دوسری جانب آگہی کا یہ اعلان ہے کہ آگے چل۔ آگے اور بھی بہت کچھ ہے۔ کتنی مختلف ہے یہ شاعری معلوم کے بیان سے؟ نامعلوم کی پراسراریت، رمزیت، اور ’’امکانیت’’ ہی اور ہے۔
اکیسویں صدی جس میں ہم سانس لے رہے ہیں، دو اعتبار سے انسانی علم کے مروّجہ قوانین اور ٓاصولوں کی دھجیّاں بکھیر رہی ہے۔ ایک کوانٹم فزکس میں ہونے والی پیش رفت، اور ایک پیراسائکولوجی کا پھیلتا ہوا منظرنامہ۔ یہ دوعلوم اس معلوم دنیا کو ایک یکسر نئی شکل دے رہے ہیں، مگر اس کے چھینٹے اردو غزل میں؟
حیرت ہے رقص میں تجہے کیا دیکھنے کے بعد
اے ذرّے کی دہمال، تجہے کیا مثال دوں؟
یہ وہ ذرّہ نہیں جو اس خاک کا ہوتا ہے جو عاشق کوچہٗ ِ محبوب میں اڑاتا پھرتا ہے۔ یہ اس ’’الیکٹرون’’ کا رقص ہے جو ساری وجودی حقیقتوں کی بنیاد میں جلوہ فرما ہے۔ آنکہیں کھلنے لگی ہیں اب۔ اشعار مزا بھی خوب دے رہے ہیں۔
مری نگاہ تو حیرت سے بات کرتی ہے
سو اس کو روکنا میری زباں پکڑنا ہے
میں ایک شرط پہ آوٗں گا بزم ِ یاراں میں
مرے لیے کسی حیرت کا اہتمام کرو
سن لو یارو۔ سمجھ لو کہ رفیع کیوں تمہاری غزلوں کی تعریفوں کے پل نہیں باندھتا؟ اسے حیرت مہیّا کرو۔ پھر دیکھو یہ کیسے ایک چھوٹے بچے کی طرح ہمکتا اور خوش ہوتا ہے اور تمہیں گلے لگاتا ہے۔
یہ جو ہر سمت میں لکھی ہوئی اک نظم سی ہے
اس کے حیرت بھرے اشعار سے باندھا ہوا ہوں
ایک منظر ہے کہ اوجھل ہے مری آنکھوں سے
ایک حیرت ہے کہ میں جس سے لگا پھرتا ہوں
بجھا ہوا کوئی منظر مجھے قبول نہیں
میں اپنی آنکھ سے حیرت نکال پھینکوں گا
عطا ہوا ہے مجھے حیرتوں کا شمس ِ منیر
مری نگاہ نئے منظروں سے روشن ہے
اسے تو کوئی بھی حیرت لگا کے لے جائے
میں اپنی آنکھ کی بے رہ روی سے ڈرتا ہوں
کیسی بے راہ روی ہے جو درست راستے پر لگا دیتی ہے؟ کیسا جہان ِ حیرت وا ہوتا جا رہا ہے۔ سبحان اللہ۔
گم کدے میں حیرتوں کا سلسلہ رکھا گیا
مجھ کو تنہا چھوڑ کر بھی رابطہ رکھا گیا
حیرتی ہوں سو مری کون ضمانت دے گا؟
کوئی منظر بھی مجھے وجد میں لاسکتا ہے
جو شک کا ذائقہ آیا ہے آب ِ زمزم میں
تو کیا یقین کا زمزم نتھارنا پڑے گا؟
ساری حیرت تو مری آنکھ اٹھا لائی ہے
میرے دیکہے ہوئے کو یار کہاں دیکھتے ہیں؟
یہ ہے گلہ۔ یہ ہے مسئلہ۔ حیرت یا اخی حیرت۔
نازل ہوا ہے آنکھ پہ منظر کے سامنے
حیرت نیا فرشتہ ہے اس دین کے لیے
کیا سمجھے؟ نشانیاں۔ عقل والوں کے لیے۔ عقل والوں کا پہلا ردِّ عمل؟ حیرت۔
All knowledge starts with curiosity!
Imagination is more important than knowldge. (Einstein)
کن لوگوں کا ہمسفر ہے یہ شخص؟ دیکھو۔ سمجھو۔
حصار پر گلِ خوبی کے گرد میرا ہے
جسے میں دیدہٗ ِ حیران سے بناتا ہوں
تو اس حیرت کے سفر نے کیا دیا رفیع رضا کو؟ ایسے نئے اشعار کہ اب آپ دیدہٗ ِ حیرت وا کرکے پڑہیں تو لطف آجائے۔ چلیں میرے ساتھ اس جہان ِ حیرت کے سفر پر۔
اب کسی شعر کی وضاحت میں نہیں کروں گا۔ ہر شعر پر ذرا رکیں اور سوچیں۔ مابعدالطبیعاتی تناظر کو ذہن میں رکہیں اور میرے ساتھ ورطہ ٗ ِ حیرت میں پڑ جائیں اور رفیع رضا کے لیے دعا کریں۔ اس کے سوالات پر غور کریں کہ سوچنے والے ذہن کا کام محض جوابات سے لطف لینا نہیں، سوال اٹھانا بھی ہے۔ بلکہ سوال اٹھانا ہی ہے۔ یہ بھی دیکھئے گا کہ رفیع مضامین کو کیسے برتتا ہے۔ کیسے ایک مکمل تعقل کے موضوع میں کیفیت پیدا کرتا ہے۔ کیسے اس کا لفظیاتی نظام موضوع سے مطابقت رکھتا ہے۔ یہ تمام باتیں الگ الگ مضمون کی متقاضی ہیں، مگر سر ِ دست صرف ان خوبیوں کی طرف آپ کی توجہ مبذول کرانا مقصود ہے۔
یہ پھڑپھڑاتا ہوا شعلہ کھول دے کوئی
بندھا چراغ سے کیوں آنکھ کا پرندہ ہے؟
کہیں کوئی خلا میرے نہ ہونے سے بھی ہوگا
جسے اب مجھ سے بھر جانا ضروری ہوگیا ہے
یہ بتا سکتا ہوں وہ آگ مقدّس ہے مگر
اپنے جلنے کی میں تشہیر نہیں کرسکتا
آسماں سے بھی یقیں اٹھتا چلا جاتا ہے
ایسا ہونا تو نہیں چاہیئے، پر ایسا ہے
ہر طرف آسمان کھلتا ہے
میں کہیں سے فرار نہ ہو جاوٗں
میرے ذرّے کو چمکنا ہے اسی نور کے ساتھ
وہ مری خاک سے بچ کر نہیں جانے والا
میں اگر زندہ رہوں گا تو چلا جاوٗں گا
میں یہاں سے کبھی مر کر نہیں جانے والا
نئے ہیں لوگ، سوالات بھی نئے لائے
اٹھا یہاں سے پرانا جواب اور نکل
تجہے پتہ ہے بگولے کی آنکھ میں تو ہے
سو اپنے گرد مرا انہماک دیکھنے آ
میں پکارا، کوئی نہیں بولا
پھر مرا خامشی سے دل نہ بھرا
کہیں مثال نہیں ہے کہیں پرندوں میں
کسی الاوٗ کے اتنا قریب جانے کی
میں مر رہا ہوں کسی اور زندگی کے لیے
نہیں ہے کوئی ضرورت مجھے بچانے کی
بچے کچہے یہی منظرسمیٹ آنکھوں میں
کوئی ترے لیے کتنے نشان چھوڑے گا؟
کھلا یہ راز کہ وحدت میں کیا بڑائی ہے
میں جب حقیر ہوا جمگھٹوں کے ہونے سے
میں تجھ کو دیکھ چکا اور تجھ کو جان چکا
میں تجھ کو مان چکا آئینے کے ہونے سے
وہ روشنی مری بینائی لے گئی پہلے
پھر اس کے بعد مرا دیکھنا مثال ہوا
میں اس کے سامنے بیٹھا کہ میں جھکوں لیکن
وہ شولہ رُو تو مرا احترام کرنے لگا
تُو کائنات تو کیا، میرے دل پہ بات نہ کر
ترے لیے یہ کہانی ذرا زیادہ ہے
پہلے دیوار کی صورت تھا یہ آئینہ مجھے
اب میں اِس پار سے اُس پار بھی تکنے لگا ہوں
میں اپنی خاک اڑاتا ہوں آسمان تلک
وگرنہ کون سرے سے سرا ملاتا ہے؟
ایسا لگتا ہے کوئی کھول نہیں پایا مجھے
ایسا لگتا ہے بڑے پیار سے باندھا ہوا ہوں
میں پار دیکھ رہا ہوں بڑی سہولت سے
اور آئینے کو یہاں سے ہٹا رہا ہے تُو؟
روک لے ایک گزرتے ہوئے لمحے کو یہیں
شے کوئی جیسے پڑی ہے وہ پڑی رہنے دے
یہ کیسا تعلق ہے سمجھ میں نہیں آتا
کیوں بیچ میں بے انت خلا چھوڑنا پڑ جائے
کہ ایک روز کھُلا رہ گیا تھا آئینہ
اگر گواہ بنوں تو بیان دے دوں کیا؟
میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی
چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا
کہاں یہ خاک کے تودے تلے دبا ہوا جسم
کہاں میں سیر ِ سماوات کرنے والا تھا
دکھا رہے ہو مجھے آسمان کا رستہ
مری اڑان کا آغاز کر رہے ہومیاں
وہ آگیا ہے زیادہ قریب آنکھوں کے
اسی لیے تو ذرا بھی نظر نہیں آتا
جا اپنے آسمان کو خود ہی اٹھا کے پھر
میں تو ہٹا رہا ہوں سہارا دماغ کا
اک سرنگ آنکھ میں لگتی ہوئی پکڑی بروقت
سارے قیدی تہے مری آنکھ سے جانے والے
مرا بدن مجھے اک قید خانہ لگتا ہے
یہاں خبرنہیں کتنا زمانہ لگتا ہے
یہ کیا کیا مجھے اڑنا سکھا دیا تُو نے
اب آسمان بھی مجھ کو پرانا لگتا ہے
لوگ روئے بچھڑنے والوں پر
اور ہم خود کو ڈھونڈ کر روئے
اڑان فرض ہوئی اب مجھے اجازت دو
میں بازووٗں پہ نئے پر نکال بیٹھا ہوں
پر، پرندہ، چراغ، شعلہ، آسمان، اور آنکھ اس جہان ِ حیرت کے سفر میں رفیع کا رخت ِ سفر ہے۔ یہ اس کے دوسری اقلیم میں داخل ہونے کے پاس ورڈ ہیں۔ ایسا نہیں کہ وہ اپنی شاعری کی تفہیم کرنے پر دوسروں کو مجبور نہیں کرسکتا۔ مگر وہ جانتا ہے یہ وہ ریگ زار ہے جس پر ’’تیاری’’ کے بغیر قدم دھرا تو پاوٗں جل جائیں گے۔ اسی لیے تو وہ کہتا ہے۔۔۔۔
میں نے سب سے کہا رکو، ٹھہرو
دیکھتا ہوں میں جاکے آتش کو
وہ اس پار کا منظر دیکھتا ہے اور اس پار کے لوگوں کو خبر کرتا ہے، مگر وہ لوگ نہیں سمجھتے۔ شاید سمجہیں گے بھی نہیں۔ مگر وہ اس بات سے لاپروا اپنے سفر میں مگن ہے۔ یہ اس کی اپنی دنیا ہے جس میں وہ بلا خوف و خطر گھومتا ہے، منظروں سے حیرت سمیٹتا ہے، لفظوں میں بنتا ہے، اور آگے چل پڑتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ انت سے آگے ایک سفر ہے۔۔۔۔۔
ایسا نہیں کہ اس کے یہاں کمزوریاں نہیں ہیں۔ بہت ہیں۔ مگر وہ کمزوریاں اس بزدل کی نہیں جو اپنی کمزوریوں پر کھوکھلے لفظوں کا ملمع چڑھاتا رہنا ہے۔ یہ کمزوریاں اس جراٗت مند شخص کی ہیں جو اپنے سفر کے دوران ملنےوالی صعوبتوں کو بھی انعام تصور کرتا ہے کیونکہ اس سے اسے حیرت کا خزانہ ملتا ہے۔ فنی کمزوریاں بھی ہیں، مگر وہ کس کے یہاں نہیں ہوتیں؟ اردو شاعری کو جو رفیع رضا سے مل رہا ہے وہ ایک نیا راستہ ہے جس قدم رکھنے سے پہلے وہ رخت ِ سفر بھی مہیّا کرنا ہوگا جس کے ساتھ نئی منزلوں کی جانب پیش قدمی کی جاسکتی ہے۔ رفیع رضا بڑا شاعر نہیں۔ رفیع رضا عظیم شاعر بھی نہیں۔ مگر رفیع رضا ایک بہت اہم شاعر ہے، جو اگر اپنا سفر جاری رکہے تو ایک دن ان منزلوں تک رسائی پاسکتا ہے جو کم کم لوگوں کا نصیب ہوتی ہیں۔ یہ امکان خود میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے اور میں اس کامیابی پر رفیع کو دل کی گہرائیوں سے مبارک باد پیش کرتا ہوں۔
نظر انداز میں ہُوا لیکن
کس قدر ظلم حرف و فن سے ہوا
یہ ظلم رفیع کے نزدیک اسے نظرانداز کرنے کا ظلم نہیں، بلکہ ان لوگوں کا راستہ روکنا کا ظلم ہے جو نئی منزلوں کی دریافت میں رفیع کے ہم سفر ہوسکتے ہیں۔
ابھی بہت سی باتیں رفیع کا آئندہ سفر طے کرے گا۔ مجھے امید ہے کہ سرِ دست رفیع پر ’’صوفی شاعر’’، ’’سائنسی شاعر’’ ’’با بعدالجدیدیت کا شاعر’’ وغیرہ قسم کے لیبل نہ لگائے جائیں اور اسے اپنا سفر اسی انہماک سے جاری رکھنے ریا جائے، جو اس کے لیے بڑی کامیابوں کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتا ہے۔
اس کی شاعری کا ایک حصہ معاشرتی برائیوں کی عکاسی اور منافقت کے خلاف آواز اٹھانے سے پیدا ہوئی ہے۔ اس میں وہ اکثر نعرے بازی کا شکار نظر آتا ہے مگر صاحب۔ احتجاج میں نعرہ تو لگتا ہی ہے، سو یہ بھی ٹھیک ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اس گوشے پر کسی نہ کسی دوست نے ضرور گفتگو کی ہوگی چونکہ میں نے ابھی باقی مضامین نہیں پڑہے اس لیے یقین سے نہیں کہہ سکتا، مگر ایک مختصر تحریر میں ایک اچہے شاعر کا مکمل احاطہ کرنا ناممکن ہے، اس لیے اسے کسی اور وقت پر اٹھا رکھتے ہیں۔ چونکہ یہ موقع اپنی علمیت جھاڑنے کا نہیں بلکہ ایک خوبصورت شاعر کےکام کو سراہنے کا ہے اس لیے میں نے زیادہ توجہ اس کی شاعری سے اچہے اشعار آپ تک پہنچانے پر دی ہے۔ مگر یہ صرف انتخاب ہے۔ ستارہ لکیر چھوڑ گیا میں اور بہت مال ہے۔
اس مضمون کا مقصد رفیع کی شاعری کے اس گوشے کا قفل کھولنے کی کوشش یا کم ازکم اس کی کنجی مہیّا کرنے کی سعی تھی۔ امید ہے کہ کچھ نہ سہی مگر یہ مضمون رفیع کی شاعری کے اس بڑے حصے کی طرف احباب کی توجّہ ضرور مبذول کرائے گا جو اس کی شاعری کی اصل ہے اور جہاں سے وہ راستہ نکلتا ہے جو اس کا اصل راستہ ہے۔ اس کی منزل کا راستہ۔ جہان ِ حیرت سے گزرتا ہوا راستہ جہان ِ نامعلوم کی طرف جاتا ہوا راستہ۔
آخر میں رفیع کا وہ مزاج اور رویّہ جو لوگوں کو گراں گزرتا ہے تو صاحبو۔ شاعری جب شاعر کے وجود سے سفر اختیار کرلیتی ہے تو اپنا ایک علیحٰدہ وجود رکھتی ہے۔ اسے اس کی شخصیت سے الگ پرکھو اور اسے اس کا جائز حق دو۔ رہی شخصیت کی بات تو یہ پڑھ لو۔۔
جیسا بھی ہوں سینے سے لگا لو مجھے یارو
اب وقت ذرا کم ہی سدھرنے کے لیے ہے
عرفان ستار
ٹورنتو
۲۵ دسمبر
۲۰۱۰۔
………………………………………………………………………..
…………………………………………………………………………
NASIR ALI
ناصر علی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ستارہ لکیر چھوڑ گیا۔
رفیع رضاسے میری پہلی ملاقات رحمانپورہ لاہور پر اسی کی دہائی کے وسط میں ہوئی۔صحت مند چہرہ ،رنگ سرخ لیکن سیاہی مائل،شفاف شفاف آنکہیں لیے یہ نوجوان مجھے بہت اچھا لگا ۔چونکہ ہم دونوں تحصیل چنیوٹ سے تہے اس لیے ایک دوسرے سے قریب ہو جانا عین فطری تھا ۔ میں کیریم بہت اچھا کھیلتا تھا۔ اس نے میرے ساتھ میچ کھیلا۔ ہار جانے پر افسوس کی بجائے اس نے اگلا میچ اور جذبے سے کھیلا۔ کیریم کا بہت اچھا کھلاڑی نہ ہونے کی وجہ سے رفیع رضادوبارہ ہار گیا لیکن بعد ازاںاسے جب بھی موقع ملتا مجھے ہرانے کی کوشش کرتا ۔ مجھے اس کا یہ انداز بہت پسند آیا کہ یہ شخص مایوس ہونے کی بجائے کوشش پر یقین رکھتا ہے۔اب جب میں اسے مختلف مواقع پرکسی نہ کسی معاملے میں الجھا ہوا دیکھتا ہوںتو مجھے ہار نہ ماننے والا نوجوان رفیع رضا یاد آجاتا ہے ۔
گاہے بگاہے ہم ایک دوسرے ملتے رہے ۔ مجھے یاد نہیں کہ یہ معاملہ کیسے کھلا کہ ہم دونوں شعر بھی کہتے ہیں لیکن مجھے اتنا یاد ہے کہ رفیع رضانہ صرف اچہے اچہے شعر سناتا تھا بلکہ عروض کے علاوہ دوسرے ٹیکنیکل مسائل پربھی توجہ مرکوز رکھتا تھا۔ملاقاتوں کا یہ سلسلہ تقریباً چار سال تک قائم رہا اور اس کے بعد اچانک رفیع رضا سے ملاقات ختم ہوگئی کیونکہ اس نے لاہور چھوڑ دیا۔ پھر عرصہ دراز کے بعد میرا یہ دوست فیس بک پر کچھ یوں نمودار ہوا کہ بعد ازاں مجھے بھی اپنے ساتھ کھینچ لایا۔سو جب کچھ دن پہلے جب محترم فرحت عباس شاہ صاحب نے حکم دیا کہ رفیع رضا کی شاعری پر مضمون لکھو تو مجھے نہ صرف مسرت بلکہ ذمہ داری کا احساس بھی ہوا کہ معاملہ ذاتی دوست کا ہے ۔
رفیع کی غزل پر بات کرنے سے پہلے میں ضروری سمجھتا ہوں کہ شاعری کی بابت اپنا نقطہ ءنظر بیان کر دوں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ شعر کا لفظ شعور سے مشتق ہے یعنی شعور کا اظہار ۔ لیکن شعر میں شعور کا اظہار ایک خاص سلیقہ بھری بنت سے کیا جاتا ہے ۔ میرے ذاتی خیال میں شعر شعور یعنی بات کا بیان ہے ۔ کچھ دوست شاعری کو صرف تخیل کا اظہارقرار دے کر محدود مضامین کی قید میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ جبکہ کافی دوست شعر کو شعور اور تخیل کے ملاپ سے تشکیل پانے والا فن سمجھتے ہیں۔ہو سکتا ہے کہ وہ دوست جو شعر کو صرف تخیل کے اظہار قرار دیتے ہوں اس قضیے سے اختلاف کریں۔ ان دوستوں کا اختلاف سر آنکھوں پر کہ اختلاف ہی زندگی کا حسن ہے۔میں ذاتی طور پر پہلے اور تیسرے بیان سے متفق پا تا ہوں یعنی شعور کا شعری فنی حدود کے اندر رہتے ہوئے با سلیقہ بیان بھی میرے نزدیک شاعری قرار پاتا ہے اور شعور اور تخیل کے ملاپ سے تشکیل پاکربات کا فنی حدود کے اندر رہتے ہوئے با سلیقہ بیان بھی میرے نزدیک شاعری قرار پاتا ہے۔
میرے نظریہ شعر کے ساتھ ساتھ اردو غزل کے سفر پر چند معروضات پیش کرنا ضروری ہے ۔ یہ کہ اردو غزل کلاسیکی شعرا سے سفر کرتی ہوئی جب مولانا حالی تک پہنچی تو حالی نے اسے اسے طے شدہ استعارات و نظام علامات سے نکال کر نئے استعاراتی نظام کی جستجو پر لگا دیا ۔ بعد ازاں غزل اقبال سے ہوتی ہوئی عہدِ موجود تک پہنچی۔اس سفر کے دوران غزل بہت سے لسانی تجربات سے گزری ۔ مضامین کی سطح پر بھی بہت سے اضافے ہوئے۔ایسا بھی ہوا کہ نظم نے 1960کی دہائی میںصنف ِ غزل کی موت کا اعلان بھی کیا۔لسانی تشکیلات کے نعرے کے ساتھ نظم گو حضرات ایک تحریک بنانے میں بھی کامیاب ہوئے۔ لیکن غزل اتنی سخت جان نکلی کہ ہر مشکل سے نبرد آزماءہوتی ہوئی رفیع رضا جیسے صاحب ِ کمال شاعرتک آپہنچی ہے۔ اس سفر کے دوران غزل مختلف اسالیب سے گزری جن میں اہم طنزیہ و مزاحیہ اسلوب مثلاً اکبر الہ آبادی،تند خوئی مثلاً یگانہ ، اعلی اقدار پر مشتمل اسلوب مثلاً علامہ اقبال،نیم رومانی اسلوب مثلاً فراق،بعد ازاں لسانی تجربات کا ایک سلسلہ بھی چلا۔غز ل میں داستانی اسلو ب کو ثروت حسین جیسے شعرا نے رواج دیا اور کچھ شعرا نے تصوف کے مضامین کی مدد سے ایک نیا اسلوب دریافت کرنے کی کوشش کی جو میرے ذاتی خیال میں ابھی پوری طرح تشکیل نہیں ہو پایا۔اسلوب کے حوالے سے میں رفیع رضا کی غزل پر آخر میںبات کروں گا۔
رفیع رضا ایسا شاعر ہے جو غیر ضروری دباوکے تجربات سے گزرا۔اس دباو کی مختلف اشکال تہیں اور ہیں۔معاشی دباو کے ساتھ ساتھ سیاسی بد حالی اوربعد ازاں ہجرت کا تجربہ ۔ ہجرت کے نتیجے میں بیرون ملک تہذیبی اختلافات نے اور ہی قسم کے دباو جنم دئیے جو صرف ہجرت کرنے والا شخص ہی محسوس کر سکتا ہے۔یوں رفیع رضا جیسا شاعر ان تمام تجربات اور دباو سے گزرتا اور اظہار کا وسیلہ بصورت غزل لیے ہمارے سامنے موجود ہے۔
ستارہ لکیر چھوڑ گیا میں ایک سو پچاس غزلیں موجود ہیں جبکہ اس سے کہیں زیادہ غزلیں کتاب کی ضخامت کے باعث التوا میں ڈال دی گئی ہیں۔میں اس کتاب کی اشاعت کے سفر میں تقریباً ہر مرحلے پر موجود رہا ہوں۔اس دوران میں نے اس کتاب کا ایک ایک شعرکم از کم دو مرتبہ ضرور پڑھا۔کہیں پہلے بھی میں یہ لکھ چکا ہوں کہ رفیع رضا کی غزل نہ صرف تروتازہ لگتی ہے بلکہ یہ غزل کسی استادکی تھپکی کی جتنی پر اثراور نوجوان چہرے جیسی پر جمال ہے ۔کہیں یہ انسانی نفسیاتی تاریخ رقم کرتا نظر ٓتا ہے تو کہیںعلم الکلام کی ساری کتابوں کو شعری ٹھوکر مارتاہوا آگے بڑھ جاتا ہے۔ کہیں اس کی غزل انوکہے اظہار سے گزرتی ہے تو کہیں روایت کے ملبے میں مدفون لاشوں پر فاتحہ خوانی اہتمام ہوتا ہے۔ رفیع رضاکی غزل نہ صر ف دل میں کھب جاتی ہے بلکہ اس کی غزل میں وقت بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے۔رفیع رضا کی غزل میں غزل اور مکالمے کا ملاپ بہت دلچسپ ہے اوراس ملاپ سے یہ بھی سیکھا جا سکتا ہے کہ مصرعے کو اپنی ساخت میں سیدھا کیسے کیا جائے۔ ہر لفظ اتنا موزوں بیٹھتا ہے جیسے غزل نہ ہو گفتگو کی جا رہی ہو۔رفیع رضاکی غزل میں موجود مضامین بوسیدگی کی بو سے بالکل پاک ہوتے ہیں وہ بالکل جگالی نہیں کرتابلکہ اپنے ہونے،کرنے اور بیتی واردات سے غزل کشید کرتا ہے ۔میں کہا کرتا ہوں کہ رفیع رضا بستر پر لیٹ کر ستاروں پر کمند ڈالنے والا شاعر نہیں بلکہ اس کا عمل ہی اس کی شاعری ہے۔یعنی اس کی غزل میں وقت بولتا ہوا محسوس ہوتا ہے ۔
میرے خیال میں مشتمل بر ردیف غزل کی عمارت قافیے پر نہیں ردیف کے مناسب ترین استعمال پر کھڑی ہوتی ہے ۔ حالانکہ کہ زیادہ تر شعرا دوران ِ نزول ِ غزل اور بعد ازاں غزل پر نظر ڈالتے وقت قافیے کی طرف توجہ زیادہ مبذول رکھتے ہیں لیکن مجھے یقین ہے کہ رفیع قافیہ بندی کے ساتھ ساتھ ردیف پر گہری نظر رکھتا ہے ۔ رفیع رضا کی غزل نہ صرف طے شدہ معیارات پر پوری اتری ہے بلکہ مشکل ترین ردیف کو بھی اتنی سہولت اور ہنرمندی سے استعمال کرتا ہے کہ قاری عش عش کر اٹھتا ہے۔دور جانے کی ضرورت نہیںمثال کے طور پر اس کتاب کی پہلی پانچ غزلوںکی ردیفیں حاضر ہیں۔میں مجھے مل، پرندہ ہے،کاٹ کے دے دوں،سے گرے گا،لگی ہو تم۔ علاوہ ازیں رفیع رضا کی بہت بڑی خوبی یہ بھی ہے کہ وہ صرف اپنی زمینوں پر کاشت کرتا ہے ۔ اس کے ہاں نئی نئی زمینوں کی دریافت اور ان زمینوں میں کہی گئی غزلیں اپنی مثال آپ ہیں ۔کسی شاعر کی تخلیقی صلاحیت کو جانچنا ہو تو اس کی تخلیق کردہ زمینوں سے اس کے قد کاٹھ کا با آسانی پتا چلایا جا سکتا ہے ۔ رفیع اس معیار پر نہ صرف پورا اترتا ہے بلکہ اس حوالے سے بہت اہم شاعر قرار پاتا ہے۔ آ ئیے اس کی دریافت کردہ زمینوں میں کچھ زمینوں سے لطف اندوز ہوں ۔
غزل کو یاروں نے حجرہ بنا لیا ہوا ہے
ایک مجذوب اداسی میرے اندر گم ہے
بس آنکھ لایا ہوں اور وہ بھی تر نہیں لایا
گزرتے جا رہے ہیں دن، گزارا ہو رہا ہے۔
کچھ نہ کچھ ہونے کا یہ ڈر نہیں جانے والا۔
چاک پر ایسے میرا سر گھوما۔
اے وقت کے امام کہیں میں نہ چل بسوں۔
دن کے اجلے سفید تن سے ہوا۔
رفیع رضا کے ہاں اتنی زیادہ نئی زمینیں ہیں کہ مجھے مشکل ہو رہی ہے کہ کس کس کا ذکر کروں۔ اردو غزل احسان فرموش نہیں ۔ جس شاعر نے اردو غزل کے ساتھ پوری طرح جڑ کر اس کی خدمت کی ،غزل نے اسے یاد رکھا ۔ سواس حوالے سے رفیع رضا کا نام اردو غزل کی تاریخ میں ہمیشہ موجود رہے گا کہ اس نے نئی نئی زمینوں کی دریافت میں بہت اہم کردار ادا کیا ۔
رفیع رضا کا ایک اور اہم کام یہ ہے کہ اس نے روزمرہ زندگی کے مکالماتی انداز کو غزل کی زبان بنا دیا ہے ۔ اس کا یہ مکالماتی اسلوب اس دور کی ضرورت بھی ہے۔ یہ وہ دور ہے جس میں فارسی کو سکولوں سے تقریباً خارج کر دیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے مستعمل زبان کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دیا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ نوجوان کتابی اور شعری اردو سمجھنے میں مشکل محسوس کرتے ہیں۔ اس لیے رفیع رضا کا مکالماتی انداز اور روزمرہ کی زبان میں معیاری اور بہترین غزل بہت اہم کام ہے ۔ بہت سے شعرا محدود اور مخصوص لفظیات میں مبتلا ہونے کے باعث عام مستعمل زبان سے شعر کشید کرنے سے قا صر رہتے ہیں۔ شعرا کی اس وجہ سے نوجوان نسل شعر سے دور ہوتی جا رہی ہے ۔ ایسے میں رفیع رضاکی غزل اردو زبان کے لیے تحفہ ہے۔
اردو شاعری میں اضافتوں کے استعمال پر بہت سی گفتگو کی جاسکتی ہے۔ اضافت اظہار کی سہولت دیتی ہے لیکن ساتھ ساتھ زبان کو بوجھل بھی بنا دیتی ہے ۔ بہت سے شعرا تو ایک سیدھا مصرعہ نہیں کہہ سکتے۔بعض اوقات تو اردو کی بجائے جناتی زبان بن جاتی ہے۔شعر کے ایک مصرعے میں دو اضافت فی مصرعہ کا حساب لگائیں تو پانچ اشعار کی غزل میں بیس عدد اضافیتں موجود ہوتی ہیں ۔ رفیع رضااس معاملے میں بہت سلجھا ہوا رویہ رکھتاہے۔ عام طور پر اس کی غزل اضافت سے پاک ہوتی ہے ۔اگر کہیں ضروری ہو تو اضافت اتنی سہل ہو کر آتی ہے کہ ذرا بھی بوجھل محسوس نہیں ہوتی۔اس کے ہاں آسان لیکن تازہ اضافت بھی موجود ہے لیکن مقدار میں بہت کم کیونکہ یہ اس طرف توجہ ہی نہیں دیتا۔
جیسا کہ میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ رفیع رضااردگرد کی زندگی اور انسانی تعلقات کو پوری طرح محسوس کرتا ہے اسی احساس کے تحت وہ اردو شاعری میں روائیت کے اندر رہتے ہوئے تعلقات میں بہتری کی تلاش میں رہتا ہے۔اس تگ دو نے اس کے شعری اسلوب کو تخلیق کیا ہے۔ رفیع رضا مسلمات پر اعتبار کرتا ہے لیکن کہیں کہیں انحراف کے رستے بھی نکال لیتا ہے ۔ میرے خیال میں اس کے اسلوب کے اہم پہلو کچھ یوں ہیں ۔(1) رفیع رضا نے اردو غزل میں مستعمل اسلوب سے واضح انحراف کرتے ہوئے غزل کو عام فہم بنا دیا ہے ۔(2)رفیع رضا نے نئی شعری علامتوں کو تشکیل دنے کی کوشش کی ہے جو کہ قابل تحسین ہے۔(3)لسانی سطح پر اردو غزل مشکل پسندی کا شکار تھی۔رفیع رضا نے اسے سیدہے اور آسان رستے پر ڈالنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔(4)موضوعات کی سطح پر بھی اردو غزل محدودات کا شکار تھی۔ رفیع رضانے غزل کو محدود مضامین سے نکال کر بہت سے نئے امکانات کا در کھول دیا ہے۔(5) رفیع رضا نے کسی ایک موضوع سے وابستہ نہ رہ کر تمام زندگی کو شعر کا موضوع بنا کر ثابت کیا ہے کہ غزل کم مایہ اور کمزور وسیلہ اظہار نہ ہے ۔اگر صلاحیت ہو تو کوئی بھی بات سلیقے سے غزل کا حصہ بنائی جا سکتی ہے آخر میں کہنا چاہوں گا کہ ہماری رسمی شاعری اس قدر بے ہوش ہو چکی ہے کہ اس کی کائنات ایک بند کمرے سے زیادہ وسیع نہیں ۔ یہ رفیع رضاجیسے شاعر کا کام ہے کہ اس نے اپنے اردگرد کواپنی ذات سے علیحدہ کرنے کی بجائے اسے بھی اپنی ذات کا حصہ سمجھا اور بے ہوش اور رسمی شاعری کو بند کمرے میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا اور اپنے لیے نئے میدان تلاش کرنے کی کامیاب کوشش کی۔ (ناصر علی مورخہ
۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رفیع رضا ، ایک منفرد اور بلند پرواز پرندہ
تبسم وڑا ئچ صآحب۔

بعض لوگ ادب کی تخلیق کے حوالے سے ادب برائے ادب کا پرچم اٹھائے پھرتے ہیں لیکن اگر ادب زندہ انسانوں کے حوالہ سے اور زندگی کے کینوس پر رنگ پکھیرنے کے پس منظر کے ساتھ صورتگری کا حامل ہے تو پھر ادب برائے زندگی اپنے اندر ایک بھرپور معنویت اور مقصدیت کا پیغامبر ہےِ ۔
آج مجھے جس تخلیق کار کے فن اور ادبی محاسن پر اپنی معروضات پیش کرنا ہیں وہ بھی ادب برائے زندگی کے روح پرور نظریہ پر یقین رکھتا ہے ۔ حال ھی میں اس منفرد لب و لہجہ کے مالک شاعر کا شعری مجموعہ ” ستارہ لکیر چھوڑ گیا ” کے نام سے منصّہء شہود پر آیا ہے ۔ اور شناوران سخنوری سے داد و تحسین سمیٹ رھا ہے ۔
گو کہ میں ابھی مذکورہ کتاب کا جم کے مطالعہ نہیں کر پایا لیکن جتنا بھی مطالعہ کیا ہے اس کے زریعہ مجھ پر ایک ایسا درِ حیرت وا ھوا ہے کہ جس نے مجھے ایک ایسے رفیع رضا سے متعارف کروایا ہے جس سے پہلے میں نا آشنا تھا ۔ مجھے اس کتاب کے حوالہ سے رفیع رضا پیک وقت ایک شاعر،ایک انقلابی، ایک محب وطن، انسان اور انسانیت سے ٹوٹ کر پیار کرنے والا، زندگی کے تمام رنگوں ، جذبوں اور جہتوں کا صورتگر ، معاشرتی ناہمواریوں کا شدید نقاد ، طبقاتی استحصال سے نفرت کی حد تک اختلاف رکھنے والا ، تاریخ کی تلخ ترین سچائیوں کا مرثیہ گو ، مذھب کے نام پر پروان چڑھنے والی بدترین منافقتوں کا نوحہ گر ہے ۔ جہاں پر اپنی شاعری کے آئینے میں رفیع رضا اقوام عالم کے حوالے سے بین الاقوامی و عالمی طاقتوں کے استعماری ھتھکنڈوں اور استحصال پرور رویّوں اور منفی پالیسیوں پر سراپا احتجاج نظ آتا ہے وہیں پر وہ امت مسلمہ کی باہمی کمزوریوں ، ریشہ دوانیوں اور استعماری قوتوں کی کاسہ لیسی سے بھی اپنے شدید غم و غصی کا توانا انداز میں اظہار کرتا ہے ۔ رفیع رضا بیک وقت انسانی اجتماعی المیوں کا خطیب بھی ہے اور آنے روشن صبحوں کا نقیب بھی ہے، دکھوں،صدموں اور محرومیوں کا بیانگر بھی ہے اور امیدوں، آروؤں اور تمنّاؤں کا پیغامبر بھی ۔ آئیے رفیع رضا سے ملتے ہیں ۔
رفیع رضا کی مزکورہ کتاب میں پرندہ اسکے نمائندہ لفظ کے طور پہ واضح نظر آتا ہے ۔ پرندہ جو کہ ایک معصوم اور بے ضرر مخلوق ہے ، امن و آشتی، صلح جوئی اور بلند نگاھی ، وسیع الظرفی اور کشادہ روئی کی علامت ہے ، بلند ہمتی، جہد مسلسل اور نا مساعد حالات کا دلیری اور مستقل مزاجی سے مقابلہ کرنے کا استعارہ ہے اور یہ لفظ آپ رفیع رضا کی شاعری میں بار بار دیکہیں گے لیکن ھر بار ایک نئے مفہوم اور الگ آھنگ کیساتھ یہ آپکو رفیع کی سوچ دریچوں کی مختلف جہتوں اور زاویوں سے متعارف کراتا ہے ۔ اور شاعر کی سوچ میں پھیلی ھوئی ہمہ گیر وسعتوں اور بیکراں عالم امکانات کا عکّاس ہے ۔ مثالیں اسلئے نہیں دونگا کہ تحریر طوالت کا شکار ھو جائیگی
رفیع محبتوں،چاھتوں اور امن عالم کا علمبردار ہے وہ اس عالمگیر اور آفاقی سچائی کا درس دیتے ھوئے بھی اپنی روایتی عقلیت پسندی اور منطق و استدلال کے جاندار روئیّے کا دامن ھاتھ سے نہیں چھوٹنے نہیں دیتا ۔
طاقت کی یہاں کوئی ضرورت ھی نہیں ہے
نفرت کا درندہ ہے محبّت سے گرے گا
ساتھ ھی وہ اپنے لوگوں میں پروان چڑھنے والی ایسی برائیوں ، معاشرتی خرابیوں اور اخلاقی کمزوریوں کے مہلک اور تباہ کن اثرات اور نتائج سے اپنے اھل معاشرہ کو خبردار بھی کرتے ہیں
دشمن بھی اسی طاق میں مدّت سے ہے لیکن
یہ گھر مرے اپنوں کی وساطت سے گرے گا
اسی کے ساتھ وہ تاریخی حقائق کے تلخ پہلوؤں سے بھی چشم پوشی کرنے پہ آمادہ نہیں اور بڑے واضح لہجہ میں اسکا اظہار بھی کرتا ہے
اس شہر کی بنیاد میں پہلے بھی لہو تھا
یہ شہر اسی اپنی نحوست سے گرے گا
رفیع رضا ایک صاحب شعور اور صائب الرّائے معاشرتی اکائی ھونے کے حوالے سے معاشرہ میں پائے جانے والی مذھبی روایات کو من و عن بغیر کسی تحقیق و تصدیق کے صرف اندھی عقیدت کے بل بوتے پر تسلیم کرنے کو تیار نیں بلکہ وہ تو بلند بانگ اعلان کرتے ہیں کہ
عجیب لوگ ہیں خود سوچنے سے عاری ہیں
روایتوں کو عقیدہ بنا لیا ھوا ہے
رفیع رضا عالمی امن کے نام نہاد علمبرداروں اور انسانیت کی بھلائی کے جھوٹے دعویداروں کی دوغلی اور منافقانہ بلکہ انسانیت کش جبر و جور پر مبنی ظالمانہ چالوں اور عالمی امن کو سبوتاژ کرنے والی دھشت گرد پالیسیوں کا انتہائی جرآت اور بیباکی سے پردہ چاک کرتے ہیں
کہتا ہے بستیوں کو بسانا ہے اسکا کام
ساری زمیں اجاڑ کے کہتا ہے خوش رھو
آئین لکھتا رھتا ہے امن و امان کا
قرطاس امن پھاڑ کے کہتا ہے خوش رھو
کہتا ہے اب فضا پہ فقط اسکا راج ہے
اور پنکھ سب کے جھاڑ کے کہتا ہے خوش رھو
کہتا ہے اس کے قد کے برابر کوئی نہیں
آئینے توڑ تاڑ کے کہتا ہے خوش رھو
حریّت فکر کا ھر مجاھد دشت کربلا میں حق و باطل کے مابین برپا ھونے والی عظیم ترین معرکہ آرائی میں لشکر الہی کے سپہ سالار حسین ابن علی سے اکتساب فیض اور انکی روایت عشق سے طاقت حاصل کئے بغیر نعرہ ء انالحق لگا ھی نہیں سکتا اور یہی حقیقت رفیع رضا کے ھاں بھی اظہر من الشمس ہے کہ وہ کربلا کی روشنی سے اپنی راہ کا تعیّن کرتے ہیں
منظر سب کاٹنے آتے ہیں مرے نام و نشاں کو
میں ایک دیئے کا انہیں سر کاٹ کے دے دوں
لیکن وہ اس روشن ترین استعارے کا استعمال کس جاندار اور خوبصورت انداز سے فنکارانہ چابکدستی اور مہارت سے کرتے ہیں کہ عقل داد دینے پر مجبور ھو جاتی ہے
ڈھونڈ ھی لیتی ہے نیزے کی طرح کوئی بات
مجھ سے چھپتا ھی نہیں میرا سر ایسا ہے
یہ کتنا بڑا ظلم اور تاریخی بد دیانتی ہے کہ آجتک مسلمانوں کی تاریخ کو اسلامی تاریخ بنا کر پیش کیا جاتا رھا ہے حالانکہ اسلام کی تاریخ شعب ابی طالب ، غار حرا و ثور ، بدر و حنین،خیبر و خندق و احد و کربلا سے روشن ہے جبکہ مسلمانوں کی تاریخ جابر و مستبد حکمرانوں ،حجاج بن یوسف جیسے درندوں اور قاضی ابو یوسف جیسے درباری مولویوں اور مفتیوں سے آلودہ ہے ،رفیع شیخ و شا ہ کے اسی ناباک گٹھ جوڑ پر بلیغ تبصرہ کرتے ہیں
ضرور یہ کوئی ناپاک سا تعلق ہے
جو شیخ و شاہ نے رشتہ بنا لیا ھوا ہے
درج زیل اشعار میں رفیع رضا کی اظہار بیان کے حوالے سے جدّت پسندی ، تنوّع اور انفرادیت بھر پور انداز سے قاری کو اپنی سحر بیانی میں گرفتار کرتی نظر آتی ہے اور یہی لب و لہجہ اسے اپنے ہمعصر شعرا ء سے ممتاز و منفرد ٹھراتی ہے
لوگ روئے بچھڑنے والوں پر
اور ہم خود کو ڈھونڈ کر روئے
واقعی اپنی زات کی تلاش ، اپنی حقیقت کی پہچان اور اپنی سچائی کا عرفان ھی سب سے مشکل مرحلہ ہے اور جب کوئی اس دشوار گزار گھاٹی کو عبور کرکے اپنی زات سے متعارف ھونے پر احساس زیاں کے سوا کچھ نہ پائے تو پھر آنسو
ھی حاصل زندگی قرار پاتے ہیں لیکن پھر یہی آنسو اسکی
کامیابیوںکا پیش خیمہ ٹہرتے ہیں
مجھے اکیلا حد وقت سے گزرنا ہے

میں اپنے ساتھ کوئی ہمسفر نہیں لایا

کیسے دوں آگ کو ، پانی کو ، ھواؤں کو شکست

اپنی مٹی کو تو تسخیر نہیں کر سکتا

آنسو ہے ، پرندہ ہے ، ستارہ ہے ، فلک ہے

کیا کچھ نہ تری آنکھ کی غفلت سے گرے گا

ہمارے نام سے مشہور ھو رہے ہیں میاں
کئی پہاڑ یہاں طور ھو رہے ہیں میاں
ہم نے اپنے مضمون کے آغاز میں اپنے اس ذھین شاعر کی حب الوطنی اور اپنی دھرتی سے بے پناہ پیار کا زکر کیا تھا ، یہ خوبصورت رویّہ اسکی شاعری میں پوری ادبی وجاھت سے رواں دواں لہو کی گردش اور حرارت کی طرح موجزن ہے ، دیکہیں اس شعر میں دکھ کے احسا س کیساتھ محبت کی چاشنی اور مٹھاس بھی چھلک رھی ہے
کاٹتے رھتے ہیں شاخوں کو مرے دیس کے لوگ
چھاؤں دیتا چلا جاتا ہے شجر ایسا ہے
ھاں یہ دیس ،اسکی فضائیں، اسکی مٹی کی خوشبو اسقدر مہربان ہیں کہ اس کے باسی اپنے ھی دست و بازو نفرتوں اور تعصبات کی بھینٹ چڑھا کر اپنے جسم سے علیحدہ کردیتے ہیں ناقدرئ عالم کی اس سے افسوسناک مثال اور کہیں نہیں ملیگی لیکن یہ بد قسمت دست و بازو اپنے بدن سے کٹ کے ، اپنی دھرتی سے دربدری کی سزا جھیل کر بھی اپنے اسی گم گشتہ بدن کی سلامتی کیلئے بےقرار رھتے ہیں ملٹن کی پیرا ڈائز لاسٹ کیطرح رفیع رضا بھی اپنی گم گشتہ جنّت کا متلاشی ہے ۔
میری دعا ہے کہ خالق قرطاس و قلم افق شعر پہ رفیع رضا کو رفیع الشّان مقام پہ فائز فرمائے اور یہ ستارہ شاعری کے آسمان پر لکیر نہیں روشن تصّورات کی دھنک اور درخشاں امکانات کی کہکشاں چھوڑ کر جائے ، آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تبسم وڑا ئچ صآحب۔