کافر و گستاخ عفاف اظہر کا کالم

عفاف، affaf

کافر و گستاخ

زمین کا پہلا گستاخ اس آدم کا اپنا ہی باپ بابا آدم تھا …. … اور پھر ابن آدم کی گستاخیوں کی یہ داستان کبھی کہیں رکی نہ تھمی … بس ایک تواتر سے چلتی ہی چلی گئی …سائنس ، فلسفہ ، فکر ہو یا پھر مذا ہب و عقائد ..یہ گستاخانہ سلسلہ پھر ابن آدم کی تاریخ میں کبھی کہیں سے ٹوٹ نہ پایا … اسی عبرت ناک تسلسل کا ایک باب وہ بدترین گستاخ سقراط تھا…جس نے اپنی گستاخیوں سے توبہ کرنے کی بجائے زہر کا پیالہ لبوں کو لگا کر موت قبول کر لی تھی …. ابراہیم بھی تو بتوں کا گستاخ و کافر ہی تھا جس نے اپنی گستاخیاں اور کفر چھوڑنے کی بجائے آگ میں جھلس جانا منظور کر لیا تھا … فر عو نیت کی نظر رکھو تو موسیٰ بھی گستاخ ، و کافر ہی تھا … یہودیت کی عینک لگا لو تو مسیح بھی ایک گستاخ ، و کافر …اور کفار مکہ کی سوچ پڑھ لو تو محمد رسول بھی فقط ایک گستاخ ، و کافر ہی تو ٹہرا تھا ….

اب یہاں سوال یہ ہے کہ یہ گستاخی اور کفر آخر ہے کیا ؟؟ …جسکا خمیر آدم کی سرشت میں روز اول سے ہی جوں کا توں موجود رہا ہے … اس تاریخ انسان میں آخر کیوں ہزار کاوشوں ، کے باوجود بھی معاشروں سے یہ گستاخی اور یہ کفر کبھی بھی مٹ نہ پایا ؟ … اسکا جواب بہت تلخ ہے… اور وہ یہ ہے کہ یہ الفاظ ” گستاخ ” اور ” کافر ” کی حقیقت اور کچھ بھی نہیں سوائے اس کے کہ یہ انسانی فطرت کی بنیادی اکائی تجسس کی بنیاد پر اٹھتے سوالات ہی ہیں … جس کے پیچھے ہر دور کے موجود نظریات و روایات کو رد کرتی انفرادی فکر اور سوچ ہے …. گستاخی اور کفر کی بنیاد حقیقت میں تجسس ہی ہے.. جس کا فوری قتل عام کرنے کے لئے عقیدت و جہالت کی تمام تر سطحوں پر اسکے لئے روز اول سے ہی "گستاخ، اور کافر ” جیسے الفاظ کو نفرت , حقارت اور اس نام نہاد خدائی ناراضگی سے متعارف کروایا جاتا رہا ہے ….

یعنی اسی ابن آدم نے ہمیشہ سے خود ساختہ عقائد و روایات کی دوکانیں سجانے کے لئے اپنی خود کی دین فطرت کو مسخ ہی تو کیا ہے .. .. خود کی انفرادیت کو لہو لہو کیا ہے …اپنے ذہن میں اٹھتے بنیادی سوالات کا فوری و من پسند جواب نہ پا کر، اس فطری تجسس کے ہاتھوں رہ رہ کر سر اٹھاتی ہر انفرادی سوچ سے تنگ آ کر آسان ترین حل یہ نکالا اور اسے عقیدت کے آہنی پنجوں تلے پیس پیس کر راکھ کر ڈالا …. اور پھر اس کے باوجود بھی جہاں جہاں وہ فکر اور سوچ عقیدت و جہالت کے تمام تر اختیارات سے باہر ہوتی نظر آئی .. سبھی انتھک کوششوں کے باوجود کسی طور دبائی یا روندی نہ جا سکی …تو پھر تابوت کے آخری کیل کی مانند اسکا آخری داؤ یعنی وار ہمیشہ یہی الفاظ ” گستاخ ، کافر ” ہی ٹہرے … (عفاف اظہر